Showing posts with label sectarian killings. Show all posts
Showing posts with label sectarian killings. Show all posts

Monday, February 18, 2013

فوج نہیں انصاف

تحریر: ملک سراج اکبر


ایسا لگ رہا ہے کہ چند شعیہ علما ہفتے کے روز کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد پیش آنے والے صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ  مظاہرین کا زور اس بات پر کیوں ہے کہ کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ فرقہ وارانہ حملے تو کراچی اور پنجاب میں بھی ہوتے ہیں تو پھر کبھی کسی نے یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا کہ ملک کے دیگر شہروں کو بھی فوج کے حوالے کیا جائے۔ ہم نے انہی بنیادوں پر بلوچستان میں گورنرراج کے نفاذ کی مخالفت کی تھی  کیوں کہ  گورنر راج مسئلےکا اصل کا حل نہیں ہے۔
جو لوگ اپنے گھروں سے نکل کر پچھلے دو دنوں سے کوئٹہ شہر میں پرا من مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنے عزیزوں کی لاشیں دفن کرنے پر آمادہ نہیں ہیں وہ بڑی نیک نیتی سے مظاہرے کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف انصاف مانگ رہے ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کے گھناونے واقعات پیش نہ آئیں جن سے کسی اور کا گھر تباہ ہو۔ لیکن چند علما  ان مظاہرین کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر ایران کی سیاست چمکانے میں مصروف ِ عمل ہیں۔ مثلاً کراچی کے مظاہروں میں امریکہ مردہ باد کے نعرے لگے تو باقی شہروں میں ہزاورں کے خلاف ہونے والی کارروائی کو بین الاقوامی قوتوں کی’’ سازش ‘‘قرار دی گئی۔ غیر ملکی قوتوں پر الزام لگا کر علما عوام کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اور اس مسائل سے چشم پوشی کرنا چاہتے ہیں۔ اب تو بچے بچے کو پتہ ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پر اعتراض تو کیا جاسکتا ہے لیکن شعیوں پر ہونے والے حملوں میں امریکہ ملوث نہیں ہو سکتا۔ لشکرِ جھنگوئی کوئی امریکی تنظیم نہیں ہے بلکہ  یہ پاکستانی مذہبی انتہا پسند جماعت ہے جس کا مرکز جنوبی پنجاب میں ہے اور اس کی سرپرستی مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ادارے کررہے ہیں۔ ہر بات پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو الزام لگا کر ہمارے حکمران اور علماحقائق پر پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں۔ خود امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں شعیہ بستے ہیں لیکن آج تک وہاں کسی شعیہ کو عبادت سے نہیں روکا گیا اور قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ 
شعیہ علما کو چائیے کہ اس نازک وقت میں سیاست کرنے کے بجائےمختلف اقوام و مسالک کے مابین اچھے تعلقات ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کریں۔ اسی طرح کوئٹہ میں فوج طلب کرکے دراصل وہ ان قوتوں کو مزید مضبو ط کرنا چاہتے ہیں جن پر لشکرِ جھنگوئی کی معاونت کرنے کا پہلے ہی سے شبہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح گورنر راج کے نفاذ سے امن و امان کے معاملے میں  کوئی فرق نہیں پڑا با لکل اسی طرح  فوج کے آنے کے بعد بھی بلوچستان میں حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ 
گذشتہ دو دنوں کے مظاہروں کے پیش نظر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سانحہ کوئٹہ کا سوموٹو نوٹس لے  لیا ہےاور اس واقعے پر فوری طور پر آج ہی سے سماعت کا آغاز ہوگا ۔ ابھی چند ہفتےقبل ہی سپریم کورٹ نے بلوچستان کے مسئلے پر ایک طویل مقدمے کی سماعت کی تھی جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ دیا کہ صوبائی حکومت نا اہل ہوچکی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کو بلوچستان میں بد امنی کے حوالے سے ایک اور نئے سماعت کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ہمارے خیال میں لشکرِ جھنگوئی سمیت بلوچستان میں بد امنی پھیلانے والے تمام گروہوں کا مجموعی جائزہ  اسی کیس میں لیا گیا تھا اور  اب شاید ہی کوئی نئی بات منظر عام پر آئے ۔  یوں لگتا ہے کہ چیف جسٹس اپنی عادت سے مجبور ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک بار پھر وہ عوامی توقعات اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن جائیں۔ نیز ان کے سوموٹو سے شاید ہزارہ  مظاہرین کا غم و غصہ تھوڑا ہلکا ہوجائے لیکن اگر سابقہ مقدمے کے  نتیجے میں سپریم کورٹ نے جوا حکامات جاری کئے تھے اور ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا تو پتہ نہیں اب چیف صاحب کے پاس جادو کی کونسی چھڑی ہے جس کو لے کر وہ راتوں رات لشکرِ جھنگوئی کا قلع قمع کریں گے۔ 
چوں کہ یہ انتخابات کا سال ہےتو پی پی پی حکومت بھی شدید دباو  میں ہے کہ  کیا کیا جائے جس سے ووٹرز بدظن نہ ہوجائیں ۔ اسی بات کے پیش نظر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے گذشتہ روز سانحہ کوئٹہ کی تحقیق کے لئے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس سے قبل جب دس جنوری کا واقعہ پیش آیا تو وزیراعظم نے مذہبی امور کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کو  اپنا مندوب بنا کر کوئٹہ روانہ کیا تھا لیکن وہ مظاہرین سے مذاکرات کرنے میں ناکام ہوکر واپس اسلام آباد پہنچ گئے۔ بعد میں جب وزیراعظم خود کوئٹہ تشریف لے گئے اور صوبائی حکومت کی  برطرفی کا اعلان کیا تو مظاہرین اپنا دھرنہ ختم کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اب کی بار مظاہرین کو منانے کی خاطر کیا کرے گی کیوں کہ اب واضح ہوگیا ہے کہ گورنر لوگوں کی جان و مال کی تحفظ میں  کامیاب نہیں ہوسکی۔  
وزیرا عظم کے اس نئے چھ رکنی کمیٹی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والا کوئی رکن اسمبلی شامل نہیں ہے۔ شاید وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی کمیٹی جس میں سب اراکین غیر بلوچستانی ہوں ایک غیر جانبدارنہ رپورٹ پیش کر سکے گی لیکن اس سوچ سے اتفاق کرنا ممکن نہیں ہے۔ وزیراعظم کو اس کمیٹی میں کم از کم پچاس فیصد ( یعنی تین اراکین) بلوچستان سے شامل کرنے چائیں تاکہ مقامی لوگوں کو اس کمیٹی پر بھروسہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے باقی تین غیر بلوچستانی اراکین مقامی ممبران کے تجربات اور زمینی حقائق سےآگاہی کا فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ 
اگرچہ مظاہرین کا غم و غصہ قابل ِ فہم ہے لیکن تمام فریقین کو چائیے کہ وہ جذبات کے بجائے  فراست سے فرقہ وارانہ حملوں  کا حل ڈھونڈیں۔ فوج مسائل کا حل نہیں ہے کیوں کہ فوج پولیس کا کام نہیں کرسکتی اس لئے کہ اس کی تربیت جنگ لڑنے کی ہوتی ہے نا کہ پولیس کا فریضہ انجام دینے کی۔ جس طرح ایک کامیاب پائلیٹ سرجری نہیں کرسکتا اسی طرح ایک اچھا فوجی کامیاب پولیس آفیسر بھی نہیں بن سکتا۔ پولیس اور فوج کی ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں اور جو کام پولیس نہیں کرسکی ہے وہ فو ج ہرگز نہیں کرسکے گی۔گورنر مگسی کی یہ بات تو درست ہے کہ  ہزارہ ٹاون کا واقعہ خفیہ ادراوں کی نااہلی کے باعث پیش آیا لیکن پولیس پر تمام ذمہ داری ڈالنے کے بجائے یہ بات سمجھ لینی چائیے کہ  دہشت گردی کے یہ تمام واقعات ایک لمبے عمل سے گزر کر پیش آتے ہیں۔ اس کی مثال فٹ بال کے کھیل کی طرح ہے کہ دس کھلاڑی بال  کو مخالف ٹیم کے قبضے سے حاصل نہیں کرسکتے اور پھر بھی گول ہونے کی صورت میں سب کھلاڑی بچارے گول کیپر پر برس پڑتے ہیں۔ اسی طرح پولیس ( جسے میں یہاں گول کیپر سے تشبہ دے رہا ہوں) تک پہنچنے سے پہلے دہشت گردوں کے پس منطر کو دیکھنا بے حد لازمی ہے۔ مسئلہ ان کی تعلیم و تربیت میں ہے۔جب تک ہم ان جگہوں کا تعین اور اصلاح نہیں کرتے جہاں ان کے ننھے ذہنوں کو مذہبی نفرتوں سے بھر دیا جاتا ہے اور انھیں مذہب کی غلط تعلیم دی جاتی ہے تب تک مذہبی دہشت گردی کے واقعات کا سدباب ناممکن ہے چاہے اس کےلئے حکومت گورنر راج نافذکرے یا فوج بلائے۔ 

Sunday, February 17, 2013

کوئٹہ: ہر روز ایک نیا کربلا

تحریر: ملک سراج اکبر

 چوں کہ بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ  ہی بدنیتی پر مبنی تھا تو ہفتے کے روز کوئٹہ کے ہزارہ ٹاون میں جو المناک سانحہ پیش آیا اس پر شدید رنج و ملال تو ضرور ہوا لیکن اس واقعے پر ہمیں زیادہ حیرانگی نہیں ہوئی۔ کل کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاسی سے تجاویز کرچکی ہے جب کہ دو سو کے لگ بھگ عام شہری‘ بشمول عورتوں اور بچوں کے‘ زخمی ہو چکے ہیں۔ حسب معمول  مذہبی دہشت گرد ی کے اس واقعے کی ذمہ داری  لشکر ِ جھنگوئی نے قبول کی تھی۔ دس جنوری کے سانحے کے فوری بعد جب شعیہ علما نے کوئٹہ شہر کو فوج کے سپرد کرنے کی سفارش کی اورآخر کار یہ بات طے ہوئی کہ فوج تو نہیں بلائی جائے گی البتہ ایف سی کو شہر میں پولیس کے اختیارات دئیے جائیں گے اور صوبے کی انتظامی ذمہ داری گورنر نواب ذولفقار علی مگسی کے حوالے کی  جائے گی  تو اسی وقت ہم نے کہا کہ اس سے صوبہ میں فرقہ وارنہ حملوں میں کمی  نہیں آئے گی۔ اس بات میں کوئی نہیں کہ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت انتہائی نا اہل  اور بد عنوا ں رہی لیکن   ان پر یہ الزام لگانا کہ وہ  یا دیگر سویلن حکومتیں لشکرِ جھنگوئی جیسی تنظیموں کی حمایت کر رہے تھے سراسر غلط ہے۔ پچھلے مہینے جب  ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں افواج پاکستان ور اس کے خفیہ ادراوں پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ زیر زمین مذہبی جماعتوں کی پشت پنائی کررہی ہیں توفوج کے ترجما ن نے اگلے روز ہی اس بیان کی شدید تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ جب فوج نے اس بیان پر توقع سے بڑھ کر احتجاج کیا تو ہمیں دال میں کچھ کالا محسوس ہوا۔ 
کوئٹہ میں فوج طلب کرنے  کا مطالبہ کچھ شعیہ علما نے کیا تھا جب کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے جوش کے بجائے ہوش سے کا م لیا اور فوج کی امور حکومت میں مداخلت کے تجویز کو یکسر مسترد کردیا ۔ تاہم صدر زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ا س لئے مظاہرین کے مطالبے پر لبیک کہا کیوں کہ یہ الیکشن کا سال ہے اور پی پی پی کو عوامی ووٹ کی ضرورت ہوگی۔ لہذہ بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی  تاکہ لوگوں کے دل جیت لئے جائیں۔ پی پی پی عوام میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن دل ہی دل میں تو خودصدر اور وزیرا عظم کو بھی پتہ تھا کہ گورنر راج تو محض دیکھاوا ہے۔  ہم حالات میں بہتری کے حوالے سے اس لئے بھی کم پُر امید تھے کہ گورنر مگسی خود پچھلے پانچ سالوں میں اسی عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ اگرچہ وزیراعلیٰ کی موجودگی میں گورنر کا امورِ حکومت میں کوئی کردار نہیں  ہوتالیکن اس کے باوجود اگر گورنر مگسی ماضی میں شعیہ مسلک اور ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر بدستور ہونے والے ان حملوںکا تدارک کرنے میں صوبائی حکومت کی معاونت  نہ کرسکے تو وہ  صوبے کا انتظامی سربراہ بن کر  کیسے یکدم سارے حالات بہتر بنا سکیں گے؟ 
فرقہ واریت ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کا دیرپا حل ڈھونڈنے کے لئے لازمی ہے کہ عوام  اور علما بھی حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان اہم مسائل کے حوالے سےشعور و آگاہی دے۔ راتو ں رات اس مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے ۔ جو لوگ ان کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کی کئی سالوں تک ذہن سازی کی ہوئی ہوتی ہے۔ اب نفرت سے بھرے انہی ذہنوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔  ہفتے کے روز ہونے  والے دھماکہ کے ساتھ ہی گورنر راج کی ناکامی کا باضابطہ ثبوت مل گیا لیکن گورنر مگسی نواب رئیسانی کے مقابلے میں قابل تحسین ہیں کہ انھوں نے  سی ایم ایچ ہسپتال میں جاکر دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی عیاد ت کی۔ نواب رئیسانی نے اپنے دورِ حکومت میں ایسی منفی روایات  کی داغ بیل ڈالی کہ ان اثرہماری سیاست اور سماج پر کئی سالوں تک باقی رہے گا۔ انھوں نے عوام اور حکمرانوں کا رشتہ سرے ہی سے ختم کردیا ۔  صوبے میں کوئی بھی طوفان یا آفت آجاتی رئیسانی نے اپنے وزرا کو لوگوں سے ملنے کو نہیں کہا اور یوں عوام اور حکمرانوں کے درمیان تمام رابطے منقطع ہوگئے۔  صوبے میں بڑے سے بڑے سانحے پیش آئے لیکن کوئی صوبائی وزیر عوام کے دکھ درد میں شامل نہیں ہوا۔ ان بُرے دنوں سے نکل کر  اب جب نواب مگسی کو زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو  دلی خوشی ہوتی ہے۔ سی ایم ایچ ہسپتال میں جا کر ز خمیوں کی 
عیادت کرکے نواب مگسی ان پر کوئی احسان نہیں کررہے البتہ وہ ایک گورنرہونے کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔ 

گورنر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ ہفتے کے روزپیش آنے والا واقعہ خفیہ اداروں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ کسی اعلیٰ سرکاری اہلکار کی جانب سے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا بھی بڑی بات ہوتی ہے کیوں کہ اس سے قبل تو بس ایک ہی روایت قائم رہی ہے کہ واقعے کے فوری بعد حکومت اسے بیرونی عناصر کی سازش کہہ کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیتی تھی۔ چوں کہ گورنر مگسی اس وقت صوبے کے انتظامی سربراہ ہیں  وہ محض خفیہ اداروں کی ناکامی اور نا اہلی کو دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ نہیں قرار دے سکتے ۔ انھیں چائیے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں اور معلوم کریں کہ کن کن عناصر کو لشکر ِ جھنگوئی کی حمایت حاصل ہے اور گورنر راج کے نفاذ کے دو مہینے بعد بھی لشکر کا ایک رکن تک  کیوں کر گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ حکومت کے مذمتی بیانات ناکافی ہیں کیوں کہ  ہمیں بھی پتہ ہے کہ سیاسی رہنماوں کے یہ بیانات تو پہلے ہی سے سرکاری کمپیوٹر میں موجود ہوتے ہیں  اور اسٹاف انھیں فوری طور پر اخبارات اور ٹی وی چینلز کو جاری کردیتے ہیں تاکہ میڈیا میں توجہ حاصل کریں۔ فرقہ واریت سے نمٹنے کے لئے حکومت کو لفاظی کم اور عملی کام زیادہ کرنے ہوں گے۔  لشکرِ جھنگوئی کے ترجمان نے تو ایک بار پھر حکومت کو للکارکر یہ تک کہہ دیا ہے کہ ’’ ہمیں گورنر راج اور فوج کی موجودگی سے کوئی ڈر نہیں لگتا۔ ہماری کارروائیاں اس وقت تک جاری رئیں گی جب تک کوئٹہ شعیوں کا قبرستان نہیں بن جاتا۔‘‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لشکرِ جھنگوئی اتنے پراعتماد انداز میں یہ بیانات کیوں دے رہی ہے؟ اس اعتماد اور دیدہ دلیری کے پسِ پردہ کس کا ہاتھ ہے؟