Showing posts with label Malik Siraj Akbar. Show all posts
Showing posts with label Malik Siraj Akbar. Show all posts

Sunday, February 24, 2013

جب اختر لوٹے گا

تحریر: ملک سراج اکبر

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور صوبے کی سب سے بڑی قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی( بی این پی)  کے سربراہ سردار اختر مینگل مارچ کے پہلے ہفتے میں وطن واپس جانے کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان کی جماعت نے باقاعدہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ مئی میں متوقع عام انتخابات میں حصہ لیں گے لیکن ذرائع کا کہنا ہے بی این پی نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اب صرف باضابطہ طور پر اس فیصلے کا اعلان کرنا باقی ہے۔ پچھلے دنوں کوئٹہ میں پیش آنے والے بم دھماکے کے بعدسردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ بگڑتے ہوئے حالات  کے پیش نظر بلوچستان میں  پرامن انتخابات کا انعقاد حکومت کے لئے ایک چیلنج ہوگا۔ 
بلوچستان میں آئندہ انتخابات کی کامیابی اور سیاسی قبولیت کا دارو مدار بی این پی کی انتخابات میں شمولیت پرہے۔ اگر بی این پی انتخابات میں حصہ لیتی ہے تو پھر کسی کو یہ کہنے کا موقع نہیں ملے گا کہ بلوچستان میں قوم پرستوں نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ صوبے میں جو حکومت قائم ہوئی ہے وہ عوامی امنگوں کا ترجمان نہیں ہے۔ سال دوہزار آٹھ میں جب بی این پی، نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا تو اگلے پانچ سالوں تک نواب رئیسانی کی حکومت کو یہ طعنے لگتے رہے کہ یہ حکومت تو صرف اس لئے معرض وجود میں آئی کیوں کہ بلوچستان کی حقیقی سیاسی جماعتوں نے تو انتخابات کا بائیکاٹ کیاتھا اور ایسے لوگ اسمبلیوں میں آئے جن کی کوئی سیاسی ساکھ نہیں ہے۔
پچھلے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں میں سے نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے حوالے سے تو یہ بات پکی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گی لیکن بی این پی ابھی تک واضح فیصلہ نہیں کرسکی ہےاس کی دو بنیاد ی وجوہات ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ خود بی این پی کو پتہ نہیں کہ اسٹبلشمنٹ انھیں بلوچستان کی سیاست میں کس حد تک برداشت کرےگی۔ جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب سردار اختر مینگل نے حکومتی پالیسوں کے خلاف گوادر سے کوئٹہ تک ’’لشکرِ بلوچستان‘‘ کے نام سے ایک لانگ مارچ کا اعلان کیا تو مشرف نےیہ کہہ کر مینگل کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے کہ ’’اس ملک میں صرف ایک لشکر ہے اور وہ ہے پاکستان آرمی۔ اس کے علاوہ  ہمیں کوئی لشکرقبول نہیں ہے۔‘‘ سردار مینگل ایک سال تک زیر حراست رہےاور انھیں اس وقت رہا کیا گیا جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بلوچستان میں ’’ عام معافی اور مفاہمت‘‘ کی پالیسی لے کر اقتدار میں آئی لیکن پی پی پی کے دور حکومت میں مینگل جیسے قوم پرست رہنماوں کے لئے حکومت تو کُجا خود سیاست کے دروازے بند کردئیے گئے اور یوں ان کے اپنے آبائی علاقے خضدار میں ان کے قبائلی مخالفین کو خفیہ اداروں نے اس قدر اختیارات دے دیئے کہ انھوں نے قوم پرست سیاسی کارکناں کو اٹھا کر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکے کا نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا۔ 
اب بی این پی کو جس بات کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ یہ ہے کہ ان کے انتخابی ریلی کس حد تک محفوظ ہوں گے اور خود سردار اختر کیسے ممکنہ قاتلانہ حملوں سے بچیں گے۔ 
دوسری بات یہ ہے کہ نیشنل پارٹی کے ساتھ ساتھ بی این پی کو بھی خود علیحدگی پسند بلوچ قوم پرستوں کی مخالفت کا خطرہ ہے ۔ زیرزمین تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ نے بلوچوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں کیوں کہ پارلیمانی انتخابات سے پاکستان کا بلوچستان پر بقول ان کے ’’ قبضہ‘‘ زیادہ مضبوط ہوگا اوراگربلوچ شہریوں نے انتخابات میں اپنی رائے دی تو اس سے علیحدگی پسند قوتوں کی غیر مقبولیت ظاہر ہوگی۔ 
اگرچہ علیحدگی پسند سمجھتے ہیں اور ( اور شایدخود مینگل بھی اعتراف کرتے ہیں) کہ آزادی کی تحریک میں مینگل کا کوئی کردار نہیں ہے لیکن بہت کم لوگوں کا مینگل کی سیاسی اہمیت کا اندازہ ہے اور اگروہ صرف انتخابات میں حصہ لیتے ہیں (اور کوئی نشست بھی حاصل نہیں کرتے ہیں لیکن تب بھی)اس سےانتخابات کو قبولیت کا مہر لگ جائے گا اور مسلح تنظیمیں ایک طرح سے نظر انداز ہوں گی۔ 
آج سے پانچ سال پہلے بی این پی اور این پی کے تعلقات مسلح تنظیموں کے ساتھ اس قدر کشید ہ نہیں تھے ۔ اس وقت یہ تمام قوتیں ایک دوسرے کو کسی نہ کسی طریقے سے برداشت کرتی تھیں اور پارلیمانی سیاست کرنے والی جماعتیں یہ کہہ کر مسلح تنظیموں کی حمایت کرتی تھیں کہ ہم بلوچ حقو ق کے حصول کے لئے جدو جہد کے تمام طرایق زیر استعمال لانا چاہتے ہیں۔ آج مسلح تنظیمیں بی این پی اور این پی کو پی پی پی اورمسلم لیگ سے بھی بڑا دشمن سمجھتی ہیں کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ کم از کم وہ جماعتیں قوم پرستی کا نعرہ تو نہیں لگاتی ہیں جب کہ بی این پی اور این پی بھی مسلح تنظیموں کو اپنا جانی دشمن سمجھتی ہیں اور شکایت کرتی ہیں کہ انھیں بی این پی عوامی،مسلم لیگ اور پی پی پی میں شامل بلوچ تو نظر نہیں آتے اور بس انھوں نے اپنی بندوقوں کا رخ ان دو جماعتوں کی طرف کیا ہے۔ مسلح تنظیموں نے مختلف سیاسی سوچ  و طریقہ جدوجہد رکھنے والے بلوچوں کو نشانہ بنا کر ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی کی اور اس سے ان کی عوامی مقبولیت میں پانچ سال پہلے کے مقابلے میں آج نسبتاً کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ 
جب پچھلے سال ستمبر کو سردار اختر مینگل سپریم کورٹ کے سامنے حاضر ہونے پاکستان پہنچے تو ہم نے ان کے اس فیصلے کی یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ انھیں ایک ایسے وقت میں واپس نہیں جانا چائیے تھا جب اقوام متحدہ کی ورکنگ کمیٹی لاپتہ افراد پر کام کررہی تھی اور ان کی سپریم کورٹ میں حاضری سے بلوچ مسئلے کو عالمی سطح پر جو توجہ ملنے والی تھی وہ کم ہوگی اورہمارا یہ خدشہ سچ ثابت ہوا۔ سپریم کورٹ میں مینگل کے چھ نکات کے پیش ہونے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر پاکستانی حکومت اور خفیہ اداروں نے سپریم کورٹ میں اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں کوئی آپریشن ہورہا ہے اور نہ ہی کوئی ڈیتھ اسکوڈ ہیں۔حتیٰ کہ انھوں نے یہ تک کہہ دیا کہ صوبہ میں کوئی شخص لاپتہ بھی نہیں ہے۔ 
سپریم کورٹ لاپتہ بلوچوں کو بازیاب کرنے میں کامیاب ہوئی نا ہی سردار مینگل کی حاضری کا کوئی فائدہ ہوا۔ تاہم خان قلات میر سلیمان داو د جیسے غیر سیاسی لوگوں نےان پر یہ الزام لگایا کہ مینگل اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ایک ڈیل کے نتیجے میں پاکستان پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فوج کی مرضی سے کوئی پتا بھی ہل نہیں سکتاتو مینگل کیسے پاکستان جا سکے۔ 
جہاں تک مجھے پتہ ہےسردار مینگل اب کی بار کسی ڈیل کے تحت واپس نہیں جارہے بلکہ خود اپنی جماعت کے کچھ لوگوں کی طرف سے ان پر دباو ہے کہ وہ آنے والے انتخابات میں حصہ لیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ بی این پی نے ستمبر دو ہزار چھ میں نواب بگٹی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجاًبلوچستان اسمبلی کی دو اورقومی اسمبلی اور  سینٹ کی ایک ایک نشست سے استعفیٰ دیا تھا جب کہ دوہزار آٹھ کے انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا تھا۔ حقیقت میں یہ بات درست نہیں تھی کیوں کہ خفیہ طور پر بی این پی نے اپنے رہنماوں عبدالرحمن مینگل رکن صوبائی اسمبلی اور رکن قومی اسمبلی عثمان ایڈوکیٹ کو آزاد امیدوار کے حیثیت سے کھڑا کیا تھا۔ خود بی این پی کے اندر چند لوگ بلوچستان کی آزادی کی تحریک کو محاذ آرائی سے تشبہ دے رہے ہیں اورسینکڑوں نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہونے کے بعد سمجھتے ہیں کہ چند قوم پرست رہنما آزادی کے نام پر بلوچوں کی ایک پوری نسل کو مرنے پر مجبور کر رہے ہیں اور بی این پی کے یہ رہنما سمجھتے ہیں کہ ماردھاڑ کے اس سلسلے کو روکنے کی ضرورت ہے اور وہ باہر رہ کر حکومتی نظام اور پالیسوں میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتے۔ اسی طرح جو لوگ الیکشن کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کرکے قوم پرست دارصل کرپٹ اور اسٹبلشمنٹ نواز لوگوں کے لئے منتخب ہونے کا راستہ ہموار کررہے ہیں۔ 
جب بی این پی اور نیشنل پارٹی نے پارلیمان کو خیر باد کہا تھا تو بلوچستان آج کے مقابلے میں نسبتاً بہتر اور زیادہ پرامن تھا لیکن پچھلے پانچ سالوں میں بلوچستان میں امن تباہ ہوگئ ہے اور کوئی شخص بھی محفوظ نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دو بلوچ قوم پرست پارٹیوں کی پاس اتنی  مالی و افرادی قوت ہے کہ وہ پی پی پی، ق لیگ، جمعیت علمائے اسلام اور بی این پی عوامی کے سابقہ اراکین اسمبلی کے خلاف انتخابی مہم لڑسکیں۔ علاوہ ازیں انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنا یا نہ کرنا تو صرف ایک بنیادی عمل ہے ۔ اس کے بعد جو دشوار  گزار مراحل طے کرنے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ ان جماعتوں کے ساتھ مستقبل میں مخلوط حکومت کی تشکیل کے لئے بیٹھنا ہےجن پر قوم پرست الزام لگاتے ہیں کہ وہ نواب بگٹی اور سینکڑوں بلوچ نوجوانوں کی ہلاکت کےذمہ دار ہیں۔ 
مینگل کے لئے ملک میں واپس جانا خطروں اور مشکلات سے خالی نہیں ہے۔ پاکستان مخالف  بلوچ نوجوان انھیں غدار قرار دیں گے، بی این پی عوامی جیسی جماعتیں انھیں اپنے لئے انتخابی خطرہ  سمجھیں گی جب کہ فوج انھیں سیاست دان کے روپ میں ملک دشمن کی نگاہوں سے دیکھے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مینگل کے پاس کیا منشور اور حکمت عملی ہے جسے استعمال میں لاکروہ بیک وقت اپنے تین اہم حریفین کو مئطمین کرسکیں۔ 

Monday, February 18, 2013

فوج نہیں انصاف

تحریر: ملک سراج اکبر


ایسا لگ رہا ہے کہ چند شعیہ علما ہفتے کے روز کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد پیش آنے والے صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ  مظاہرین کا زور اس بات پر کیوں ہے کہ کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ فرقہ وارانہ حملے تو کراچی اور پنجاب میں بھی ہوتے ہیں تو پھر کبھی کسی نے یہ مطالبہ کیوں نہیں کیا کہ ملک کے دیگر شہروں کو بھی فوج کے حوالے کیا جائے۔ ہم نے انہی بنیادوں پر بلوچستان میں گورنرراج کے نفاذ کی مخالفت کی تھی  کیوں کہ  گورنر راج مسئلےکا اصل کا حل نہیں ہے۔
جو لوگ اپنے گھروں سے نکل کر پچھلے دو دنوں سے کوئٹہ شہر میں پرا من مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپنے عزیزوں کی لاشیں دفن کرنے پر آمادہ نہیں ہیں وہ بڑی نیک نیتی سے مظاہرے کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف انصاف مانگ رہے ہیں بلکہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کے گھناونے واقعات پیش نہ آئیں جن سے کسی اور کا گھر تباہ ہو۔ لیکن چند علما  ان مظاہرین کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر ایران کی سیاست چمکانے میں مصروف ِ عمل ہیں۔ مثلاً کراچی کے مظاہروں میں امریکہ مردہ باد کے نعرے لگے تو باقی شہروں میں ہزاورں کے خلاف ہونے والی کارروائی کو بین الاقوامی قوتوں کی’’ سازش ‘‘قرار دی گئی۔ غیر ملکی قوتوں پر الزام لگا کر علما عوام کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اور اس مسائل سے چشم پوشی کرنا چاہتے ہیں۔ اب تو بچے بچے کو پتہ ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی پر اعتراض تو کیا جاسکتا ہے لیکن شعیوں پر ہونے والے حملوں میں امریکہ ملوث نہیں ہو سکتا۔ لشکرِ جھنگوئی کوئی امریکی تنظیم نہیں ہے بلکہ  یہ پاکستانی مذہبی انتہا پسند جماعت ہے جس کا مرکز جنوبی پنجاب میں ہے اور اس کی سرپرستی مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ادارے کررہے ہیں۔ ہر بات پر امریکہ، اسرائیل اور بھارت کو الزام لگا کر ہمارے حکمران اور علماحقائق پر پردہ پوشی کرنا چاہتے ہیں۔ خود امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں شعیہ بستے ہیں لیکن آج تک وہاں کسی شعیہ کو عبادت سے نہیں روکا گیا اور قتل کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ 
شعیہ علما کو چائیے کہ اس نازک وقت میں سیاست کرنے کے بجائےمختلف اقوام و مسالک کے مابین اچھے تعلقات ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کریں۔ اسی طرح کوئٹہ میں فوج طلب کرکے دراصل وہ ان قوتوں کو مزید مضبو ط کرنا چاہتے ہیں جن پر لشکرِ جھنگوئی کی معاونت کرنے کا پہلے ہی سے شبہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس طرح گورنر راج کے نفاذ سے امن و امان کے معاملے میں  کوئی فرق نہیں پڑا با لکل اسی طرح  فوج کے آنے کے بعد بھی بلوچستان میں حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ 
گذشتہ دو دنوں کے مظاہروں کے پیش نظر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سانحہ کوئٹہ کا سوموٹو نوٹس لے  لیا ہےاور اس واقعے پر فوری طور پر آج ہی سے سماعت کا آغاز ہوگا ۔ ابھی چند ہفتےقبل ہی سپریم کورٹ نے بلوچستان کے مسئلے پر ایک طویل مقدمے کی سماعت کی تھی جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ دیا کہ صوبائی حکومت نا اہل ہوچکی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کو بلوچستان میں بد امنی کے حوالے سے ایک اور نئے سماعت کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ہمارے خیال میں لشکرِ جھنگوئی سمیت بلوچستان میں بد امنی پھیلانے والے تمام گروہوں کا مجموعی جائزہ  اسی کیس میں لیا گیا تھا اور  اب شاید ہی کوئی نئی بات منظر عام پر آئے ۔  یوں لگتا ہے کہ چیف جسٹس اپنی عادت سے مجبور ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک بار پھر وہ عوامی توقعات اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن جائیں۔ نیز ان کے سوموٹو سے شاید ہزارہ  مظاہرین کا غم و غصہ تھوڑا ہلکا ہوجائے لیکن اگر سابقہ مقدمے کے  نتیجے میں سپریم کورٹ نے جوا حکامات جاری کئے تھے اور ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا تو پتہ نہیں اب چیف صاحب کے پاس جادو کی کونسی چھڑی ہے جس کو لے کر وہ راتوں رات لشکرِ جھنگوئی کا قلع قمع کریں گے۔ 
چوں کہ یہ انتخابات کا سال ہےتو پی پی پی حکومت بھی شدید دباو  میں ہے کہ  کیا کیا جائے جس سے ووٹرز بدظن نہ ہوجائیں ۔ اسی بات کے پیش نظر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے گذشتہ روز سانحہ کوئٹہ کی تحقیق کے لئے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس سے قبل جب دس جنوری کا واقعہ پیش آیا تو وزیراعظم نے مذہبی امور کے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کو  اپنا مندوب بنا کر کوئٹہ روانہ کیا تھا لیکن وہ مظاہرین سے مذاکرات کرنے میں ناکام ہوکر واپس اسلام آباد پہنچ گئے۔ بعد میں جب وزیراعظم خود کوئٹہ تشریف لے گئے اور صوبائی حکومت کی  برطرفی کا اعلان کیا تو مظاہرین اپنا دھرنہ ختم کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اب کی بار مظاہرین کو منانے کی خاطر کیا کرے گی کیوں کہ اب واضح ہوگیا ہے کہ گورنر لوگوں کی جان و مال کی تحفظ میں  کامیاب نہیں ہوسکی۔  
وزیرا عظم کے اس نئے چھ رکنی کمیٹی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والا کوئی رکن اسمبلی شامل نہیں ہے۔ شاید وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی کمیٹی جس میں سب اراکین غیر بلوچستانی ہوں ایک غیر جانبدارنہ رپورٹ پیش کر سکے گی لیکن اس سوچ سے اتفاق کرنا ممکن نہیں ہے۔ وزیراعظم کو اس کمیٹی میں کم از کم پچاس فیصد ( یعنی تین اراکین) بلوچستان سے شامل کرنے چائیں تاکہ مقامی لوگوں کو اس کمیٹی پر بھروسہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کے باقی تین غیر بلوچستانی اراکین مقامی ممبران کے تجربات اور زمینی حقائق سےآگاہی کا فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ 
اگرچہ مظاہرین کا غم و غصہ قابل ِ فہم ہے لیکن تمام فریقین کو چائیے کہ وہ جذبات کے بجائے  فراست سے فرقہ وارانہ حملوں  کا حل ڈھونڈیں۔ فوج مسائل کا حل نہیں ہے کیوں کہ فوج پولیس کا کام نہیں کرسکتی اس لئے کہ اس کی تربیت جنگ لڑنے کی ہوتی ہے نا کہ پولیس کا فریضہ انجام دینے کی۔ جس طرح ایک کامیاب پائلیٹ سرجری نہیں کرسکتا اسی طرح ایک اچھا فوجی کامیاب پولیس آفیسر بھی نہیں بن سکتا۔ پولیس اور فوج کی ذمہ داریاں مختلف ہوتی ہیں اور جو کام پولیس نہیں کرسکی ہے وہ فو ج ہرگز نہیں کرسکے گی۔گورنر مگسی کی یہ بات تو درست ہے کہ  ہزارہ ٹاون کا واقعہ خفیہ ادراوں کی نااہلی کے باعث پیش آیا لیکن پولیس پر تمام ذمہ داری ڈالنے کے بجائے یہ بات سمجھ لینی چائیے کہ  دہشت گردی کے یہ تمام واقعات ایک لمبے عمل سے گزر کر پیش آتے ہیں۔ اس کی مثال فٹ بال کے کھیل کی طرح ہے کہ دس کھلاڑی بال  کو مخالف ٹیم کے قبضے سے حاصل نہیں کرسکتے اور پھر بھی گول ہونے کی صورت میں سب کھلاڑی بچارے گول کیپر پر برس پڑتے ہیں۔ اسی طرح پولیس ( جسے میں یہاں گول کیپر سے تشبہ دے رہا ہوں) تک پہنچنے سے پہلے دہشت گردوں کے پس منطر کو دیکھنا بے حد لازمی ہے۔ مسئلہ ان کی تعلیم و تربیت میں ہے۔جب تک ہم ان جگہوں کا تعین اور اصلاح نہیں کرتے جہاں ان کے ننھے ذہنوں کو مذہبی نفرتوں سے بھر دیا جاتا ہے اور انھیں مذہب کی غلط تعلیم دی جاتی ہے تب تک مذہبی دہشت گردی کے واقعات کا سدباب ناممکن ہے چاہے اس کےلئے حکومت گورنر راج نافذکرے یا فوج بلائے۔ 

Sunday, February 17, 2013

کوئٹہ: ہر روز ایک نیا کربلا

تحریر: ملک سراج اکبر

 چوں کہ بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ  ہی بدنیتی پر مبنی تھا تو ہفتے کے روز کوئٹہ کے ہزارہ ٹاون میں جو المناک سانحہ پیش آیا اس پر شدید رنج و ملال تو ضرور ہوا لیکن اس واقعے پر ہمیں زیادہ حیرانگی نہیں ہوئی۔ کل کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچاسی سے تجاویز کرچکی ہے جب کہ دو سو کے لگ بھگ عام شہری‘ بشمول عورتوں اور بچوں کے‘ زخمی ہو چکے ہیں۔ حسب معمول  مذہبی دہشت گرد ی کے اس واقعے کی ذمہ داری  لشکر ِ جھنگوئی نے قبول کی تھی۔ دس جنوری کے سانحے کے فوری بعد جب شعیہ علما نے کوئٹہ شہر کو فوج کے سپرد کرنے کی سفارش کی اورآخر کار یہ بات طے ہوئی کہ فوج تو نہیں بلائی جائے گی البتہ ایف سی کو شہر میں پولیس کے اختیارات دئیے جائیں گے اور صوبے کی انتظامی ذمہ داری گورنر نواب ذولفقار علی مگسی کے حوالے کی  جائے گی  تو اسی وقت ہم نے کہا کہ اس سے صوبہ میں فرقہ وارنہ حملوں میں کمی  نہیں آئے گی۔ اس بات میں کوئی نہیں کہ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت انتہائی نا اہل  اور بد عنوا ں رہی لیکن   ان پر یہ الزام لگانا کہ وہ  یا دیگر سویلن حکومتیں لشکرِ جھنگوئی جیسی تنظیموں کی حمایت کر رہے تھے سراسر غلط ہے۔ پچھلے مہینے جب  ہیومن رائٹس واچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں افواج پاکستان ور اس کے خفیہ ادراوں پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ زیر زمین مذہبی جماعتوں کی پشت پنائی کررہی ہیں توفوج کے ترجما ن نے اگلے روز ہی اس بیان کی شدید تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ جب فوج نے اس بیان پر توقع سے بڑھ کر احتجاج کیا تو ہمیں دال میں کچھ کالا محسوس ہوا۔ 
کوئٹہ میں فوج طلب کرنے  کا مطالبہ کچھ شعیہ علما نے کیا تھا جب کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے جوش کے بجائے ہوش سے کا م لیا اور فوج کی امور حکومت میں مداخلت کے تجویز کو یکسر مسترد کردیا ۔ تاہم صدر زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ا س لئے مظاہرین کے مطالبے پر لبیک کہا کیوں کہ یہ الیکشن کا سال ہے اور پی پی پی کو عوامی ووٹ کی ضرورت ہوگی۔ لہذہ بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی  تاکہ لوگوں کے دل جیت لئے جائیں۔ پی پی پی عوام میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن دل ہی دل میں تو خودصدر اور وزیرا عظم کو بھی پتہ تھا کہ گورنر راج تو محض دیکھاوا ہے۔  ہم حالات میں بہتری کے حوالے سے اس لئے بھی کم پُر امید تھے کہ گورنر مگسی خود پچھلے پانچ سالوں میں اسی عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ اگرچہ وزیراعلیٰ کی موجودگی میں گورنر کا امورِ حکومت میں کوئی کردار نہیں  ہوتالیکن اس کے باوجود اگر گورنر مگسی ماضی میں شعیہ مسلک اور ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر بدستور ہونے والے ان حملوںکا تدارک کرنے میں صوبائی حکومت کی معاونت  نہ کرسکے تو وہ  صوبے کا انتظامی سربراہ بن کر  کیسے یکدم سارے حالات بہتر بنا سکیں گے؟ 
فرقہ واریت ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کا دیرپا حل ڈھونڈنے کے لئے لازمی ہے کہ عوام  اور علما بھی حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور حکومت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان اہم مسائل کے حوالے سےشعور و آگاہی دے۔ راتو ں رات اس مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے ۔ جو لوگ ان کارروائیوں میں ملوث ہیں ان کی کئی سالوں تک ذہن سازی کی ہوئی ہوتی ہے۔ اب نفرت سے بھرے انہی ذہنوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔  ہفتے کے روز ہونے  والے دھماکہ کے ساتھ ہی گورنر راج کی ناکامی کا باضابطہ ثبوت مل گیا لیکن گورنر مگسی نواب رئیسانی کے مقابلے میں قابل تحسین ہیں کہ انھوں نے  سی ایم ایچ ہسپتال میں جاکر دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی عیاد ت کی۔ نواب رئیسانی نے اپنے دورِ حکومت میں ایسی منفی روایات  کی داغ بیل ڈالی کہ ان اثرہماری سیاست اور سماج پر کئی سالوں تک باقی رہے گا۔ انھوں نے عوام اور حکمرانوں کا رشتہ سرے ہی سے ختم کردیا ۔  صوبے میں کوئی بھی طوفان یا آفت آجاتی رئیسانی نے اپنے وزرا کو لوگوں سے ملنے کو نہیں کہا اور یوں عوام اور حکمرانوں کے درمیان تمام رابطے منقطع ہوگئے۔  صوبے میں بڑے سے بڑے سانحے پیش آئے لیکن کوئی صوبائی وزیر عوام کے دکھ درد میں شامل نہیں ہوا۔ ان بُرے دنوں سے نکل کر  اب جب نواب مگسی کو زخمیوں کی عیادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو  دلی خوشی ہوتی ہے۔ سی ایم ایچ ہسپتال میں جا کر ز خمیوں کی 
عیادت کرکے نواب مگسی ان پر کوئی احسان نہیں کررہے البتہ وہ ایک گورنرہونے کا فریضہ ادا کررہے ہیں۔ 

گورنر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ ہفتے کے روزپیش آنے والا واقعہ خفیہ اداروں کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ کسی اعلیٰ سرکاری اہلکار کی جانب سے اپنی ناکامی کا اعتراف کرنا بھی بڑی بات ہوتی ہے کیوں کہ اس سے قبل تو بس ایک ہی روایت قائم رہی ہے کہ واقعے کے فوری بعد حکومت اسے بیرونی عناصر کی سازش کہہ کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیتی تھی۔ چوں کہ گورنر مگسی اس وقت صوبے کے انتظامی سربراہ ہیں  وہ محض خفیہ اداروں کی ناکامی اور نا اہلی کو دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ نہیں قرار دے سکتے ۔ انھیں چائیے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں اور معلوم کریں کہ کن کن عناصر کو لشکر ِ جھنگوئی کی حمایت حاصل ہے اور گورنر راج کے نفاذ کے دو مہینے بعد بھی لشکر کا ایک رکن تک  کیوں کر گرفتار نہیں کیا جاسکا۔ حکومت کے مذمتی بیانات ناکافی ہیں کیوں کہ  ہمیں بھی پتہ ہے کہ سیاسی رہنماوں کے یہ بیانات تو پہلے ہی سے سرکاری کمپیوٹر میں موجود ہوتے ہیں  اور اسٹاف انھیں فوری طور پر اخبارات اور ٹی وی چینلز کو جاری کردیتے ہیں تاکہ میڈیا میں توجہ حاصل کریں۔ فرقہ واریت سے نمٹنے کے لئے حکومت کو لفاظی کم اور عملی کام زیادہ کرنے ہوں گے۔  لشکرِ جھنگوئی کے ترجمان نے تو ایک بار پھر حکومت کو للکارکر یہ تک کہہ دیا ہے کہ ’’ ہمیں گورنر راج اور فوج کی موجودگی سے کوئی ڈر نہیں لگتا۔ ہماری کارروائیاں اس وقت تک جاری رئیں گی جب تک کوئٹہ شعیوں کا قبرستان نہیں بن جاتا۔‘‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لشکرِ جھنگوئی اتنے پراعتماد انداز میں یہ بیانات کیوں دے رہی ہے؟ اس اعتماد اور دیدہ دلیری کے پسِ پردہ کس کا ہاتھ ہے؟  

Tuesday, February 5, 2013

بلوچستان میں ژولیدگی کا راج

تحریر: ملک سراج اکبر
چند ہفتوں قبل بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے حالات اب ایک بار پھر’’ نارمل‘‘ ہورہے ہیں۔  لیکن صورتحال  صرف بلوچستان کے منفرد انداز میں نارمل ہورہی ہے یعنی صوبے میں ایک بار پھر بلوچ قوم پرستوں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے، شعیہ ہزاروں پر از سرے نو حملوں کاآغاز ہوگیا ہے، سرکاری اہل کاروں اور پنجابی آباد کاروں پر بھی اسی طرح کے حملے دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ اگر بدامنی، خوف و ہراس بلوچستان کی روزمرہ زندگی کا ایک تلخ حصہ بن چکی ہیں تو صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد  حالات بدستور ماضی کی طرح ہی نارمل ہیں یعنی بہتری کی طرف کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔  ابھی چند ہفتے قبل ہی باور کیا جارہا تھا کہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بد امنی، بد عنوانی اور سیاسی عدم استحکام کا واحدحل گورنر راج  ہے لیکن اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ جن مقاصد کے حصول کی خاطر گورنر نواب ذولفقار علی مگسی کو انتظامی اختیارات دے دئے گئے ہیں  اور ان کے حصول میں ناکامی کے بعد   بلوچستان کے لئیے مستقبل قریب میں کیا رکھا ہے؟ 
گورنر راج کی مدت ساٹھ دن ہے اور اس دوران گورنر مگسی کے سامنے انتہائی غیرمعمولی اہداف  ہیں۔ ان سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنائیں گے،ناراض بلوچ قوم پرست رہنمائوں کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور پچھلی حکومت میں بد عنوانی میں ملوث وزرا کے خلاف بےلاگ احتسابی عمل کا آغاز کریں گے۔ علاوہ ازیں گورنر مگسی سے یہ امید یں بھی وابستہ کی جارہی ہیں کہ وہ صوبے میں آئندہ عام انتخابات کے  پیش نظر ایسے سازگار حالات پید ا کریں جن سے متاثر ہوکر بلوچ قوم پرست بھی انتخابات میں حصہ لیں اور ایک بار پھر قومی دھارے میں آجائیں۔ 
خو د سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف بھرپور احتجاج نہیں کی ہے۔ حتیٰ کہ خود پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے سابق وزیر اعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی کی حکومت کی برطرفی کی یہ کہہ کر حمایت کی ہے کہ رئیسانی حکومت  کاور نا اہل تھی اور ایک ناایک دن اس حکومت  کا یہی انجام ہونا تھا۔صرف نواب رئیسانی کی مخلوط حکومت میں شامل جمعیت علما اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نے  گورنر راج کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے  اور وفاقی حکومت کے فیصلے کی پرزور مذمت کی ہے۔ مذکورہ دونوں جماعتوں کے مظاہروں اور سینٹ سے  مسلسل بائیکاٹ  کے باوجود اس با ت کا دور دور تک عندیہ نہیں مل رہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری  کسی قسم کے دباو میں آکر گورنر راج ختم کردیں گے۔  اگرچہ صوبے میں گورنر راج کے خلاف کوئی پرجوش تحریک تو نہیں چل رہی لیکن اصل مسئلہ تو امن و امان کا ہے جس میں فرنٹیر کور ( ایف سی ) کو پولیس کے اختیارات دینے کے باوجود کوئی  بہتری نہیں آ رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بلوچستان میں بدامنی کی یہ لہر جاری رہتی ہے تو کیاصوبے میں عام انتخابات کا انعقاد  ممکن ہو سکے گا؟ 
26 جنوری کومشتبہ بلوچ حملہ آوروں نے حکومت کے حامی ایک امن فورس پر ڈیرہ بگٹی میں حملہ کرکے تین افراد کو ہلاک اور چار کو اغوا کرلیا۔ اس واقعے کے دو دن بعد اٹھائیس جنوری کو آزاد بلوچستان کے حامی زیر زمین تنظیم بلو چ لبریش فرنٹ (بی ایل ایف) نے گوادر میں پسنی کے علاقے میں پاکستان ائیر فورس کے اہلکاروں پر حملہ کرکے دو افراد کو ہلاک کردیا جب کہ اسی دن پسنی ہی میں تین پنجابی آبادکاروں کو بھی نشانہ بنا کر ہلاک کردیا گیا ۔ سرداری نظام سے پاک مکران ڈویژن جس میں گوادر کے ساتھ ساتھ تربت اور پنجگور کے اضلاع شامل ہیں اب بلوچ علحیدگی پسند تحریک کا  ایک اور مرکز بن چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بلوچستان کے جو جو اضلا ع قدرتی وسائل یا سمندر کی وجہ سے اہمیت کے حامل ہیں  وہ سب قوم پرست تحریک کے گڑھ بن چکے ہیں۔ مسلح بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ  گورنر راج کے نفاذ کے بعد حکومت نے کئی بلوچ اضلا ع میں فوجی آپریشن شروع کی ہے جس کے ردعمل میں انھوں نے بھی حکومتی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔ 
 کوئٹہ  میں دس جنوری کےالمناک بم دھماکوں کےبعد  جن کے نتیجے میں سو سے زاہد افراد جان بحق ہوگئے اور وفاقی حکومت نےاس واقعہ کو  جواز بنا کر گورنر راج نافذ کیا  ایک بار پھر شعیہ ہزارہ برادری کے خلاف بھی حملوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ انتیس جنوری کو ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دو پولیس اہلکاروں کو کوئٹہ میں نشانہ بناکر ہلاک کردیا گیا۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ کوئٹہ میں ہزاروں پرپہلا حملہ تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری ایک نسبتاً نامعلوم تنظیم  جیش الاسلام نے قبول کی۔ بلوچستان میں شعیہ اور ہزاروں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی  ذمہ داری عموماً لشکر ِ جھنگوی ہی  قبول کرتی ہے لیکن  جیش الاسلام کی جانب سے تازہ ترین  واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے  اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ تنظیموں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔  جیش الاسلام اس وقت منظر عام پر نمودار ہوئی جب اس تنظیم نے  پچھلے سال تیس دسمبر کو مستونگ میں شعیہ زاہرین کے بس پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ۔ اس واقعہ میں  یس شعیہ زائرین ہلاک ہوئے تھے۔ 
کوئٹہ اور اسلام آباد کے پاس فرقہ واریت سے نمٹنے کے لئے سرے سے ہی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ جو عناصر شعیوں اور ہزاروں کے قتل عام میں ملوث ہیں  حکومت نے ان میں سے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی کو اس ضمن میں سزا ہوئی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو جمعیت علمائے اسلام اور دیگر سنی مذہبی علما اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہیں کہ لشکر جھنگوئی کے ساتھ بات چیت کرکے انھیں معصوم شہریوں کے خلاف کارروائیوں سے روک دیں۔ تاحال حکومت نے(گورنرراج کے بعد) صرف بلوچ قوم پرستوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ بلکہ ایک ہی مہینے میں حکومت نے بلوچ قوم پرستوں کو دو مواقع پر ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی ہے اور کہا ہے کہ جو مزحمت کار حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے حکومت انھیں اس کے عوض ہاہانہ دس ہزار روپے بطور وظیفہ دے گی۔
اس کے علاوہ حکومت نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے افراد کو ان کی تعلیمی قابلیت کے  بنیاد پرسرکاری نوکریاں بھی فراہم کی جائیں گی۔  ماضی کی طرح اس بار بھی بلوچ قوم پرستوں نے نہ صرف حکومتی پیشکش کو یکسر مسترد کردیا ہے بلکہ اس پر طنز بھی کی ہے۔ مسلح بلوچ قوم پرستوں کے ایک ترجما ن نے سرکاری پیش کش کے جواب میں کہا کہ ’’اگر گورنر نواب ذولفقار علی مگسی اپنی نوکری چھوڑ کر بلوچستان کی آزادی کی تحریک میں ہمارا ساتھ دیں گے تو ہم انھیں تین گنا زیادہ تنخواہ دیں گے‘‘۔
مسلح بلوچ تنظیموں نے عام انتخابات کے دوران گڑبڑ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے  وہ انتخابات کا بائیکا ٹ کریں کیوں کہ بقول ان کے انتخابات ان کی ’’تحریک آزادی‘‘ کو کمزور کریں گی۔ یوں لگتا ہے کہ اس دھمکی کے بعد حکومت اور بلوچ قوم پرستوں کے درمیان جو ڈیڈ لاک ہے اس میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ 
گورنر راج کے نفاذ سے بلوچستان کے مسائل میں بہتری آنے کے بجائے اضافہ ہوگیا ہے۔ جو لوگ وفاقی پارلیمانی سیاست میں یقین رکھتے ہیں وہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ یقین نہیں کرپار ہے کہ  وفاقی حکومت راتوں رات صوبے کے لوگوں کے مینڈیٹ کو ٹوکر مار کر اپنی مرضی کی حکومت قائم کرسکتی ہے۔ جہاں تک بلوچ قوم پرستوں کا تعلق ہے تو وہ حکومت کی اس پالیسی کے حق میں نہیں ہیں کہ ایک طرف تو ان کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے اور دوسری طرف انھیں وظیفہ اور دیگر سرکاری  مراعات کی پیشکش بھی کی جائے۔ اس تمام صورت حال میں سب سے زیادہ فائدہ فرقہ وارانہ جماعتوں کو ہورہا ہے جن کی طرف حکومت نے ایسی پالیسی اپنائی ہوئی ہے کہ نہ ان سےکچھ پوچھا جائے اور نہ ہی وہ اپنے بارے میں کچھ بتانے کی زحمت کریں اور یوں فرقہ وارانہ تنظیموں روز بروز مضبوط تر ہوتی جارہی ہیں۔