Showing posts with label Malik Siraj Akbar Urdu blog. Show all posts
Showing posts with label Malik Siraj Akbar Urdu blog. Show all posts

Sunday, May 12, 2013

بلوچستان: بعد از انتخاب


تحریر: ملک سراج اکبر


کافی قیاس آرائیوں کے بعد ملک بھر کی طرح گیارہ مئی کو بلوچستان میں بھی عام انتخابات مشکل حالات میں سہی لیکن منعقد ہوہی گئے۔ صوبہ بھر میں ووٹر ٹرن آوٹ بہت ہی کم رہاجس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ضلع آواران میں کامیاب ہونے والے امیدوار قدوس بزنجو نے صرف چھ سو چالیس ووٹ حاصل کئے۔بلوچ نیشنل فرنٹ نے انتخابات سے سے پہلے اور انتخاب کے دن ایک انتہائی کامیاب شٹرڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کیا جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے اور ووٹ دینے  باہر نہیں نکلے۔لیکن تمام نا مساعد حالات میں بلوچستان میں ایسے عام انتخابات منعقد کرنا جن میں بلوچ اور پشتون قوم پرستوں نے بھی حصہ لیا حکومتی نقطہ نظر سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ نصیرآباد میں ہونے والے ایک بم دھماکے علاوہ جس میں سولہ افراد ہلاک ہوئے  باقی ماندہ بلوچستان میں انتخابات پرامن رہے اور جس طرح کے بڑے حملوں کا خدشہ تھا وہ پیش نہیں آئے۔ چھوٹے موٹے واقعات اور دھاندلی کے الزامات تو ہر انتخاب میں لگتے رہتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ہی لوگ فراموش کردیتے ہیں۔ 
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ گیارہ مئی بلوچ علیحدگی پسند اور سرکار دنوں کے لئے بیک وقت فتح اور شکست کا دن تھا ۔ اب اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ کو ن سکے کو کس رخ سے دیکھتا ہے اور وہ انتخابی نتائج کی کس طرح تشریح کرتے ہیں۔ 
ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں ایک بار پھر کوئی ایک جماعت واضح اکثریت کے ساتھ کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔بلوچستان انتخابی حوالے سےملک کا سب سےمنقسم صوبہ ہے جہاں بلوچ قوم پرستی کا دعویٰ دار ہونے کے باوجود بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی ایک ساتھ مل بیٹھ کر  کسی بھی مسئلے پر اکٹھے کام نہیں کرسکتیں ۔اسی طرح جمعیت علمائے اسلام بھی دو دھڑوں (فضل الرحمن اور نظریاتی) میں تقسیم ہے۔ پشتونوں کی ترجمانی  پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کرتی ہیں جب کہ وفاق پر یقین رکھنے والی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ( نواز اور قائد اعظم ) دنوں بڑی حدتک اپنا وجود رکھتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی تا حال خود کو بلوچستان کی سیاست میں تاحال منوا نہیں سکی ہیں اور ان کی صوبائی پارلیمان میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ 
حتمی نتائج تاحال برآمد نہیں ہوئے ہیں ۔ ابھی تک جو غیر حتمی نتائج سامنے آئے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صوبے کی سیاست میں قدرے تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے۔اس ضمن میں سب سے خوش گوار تبدیلی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کی طرف سے دیکھنے میں ملی ہے جنھوں نے  ایک غیر حتمی اندازے کے مطابق  مشترکہ طور پر پینسٹھ نشستوں پر مشتمل صوبائی اسمبلی کی اٹھارہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ دنوں جماعتوں نے سابقہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جب کہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے مقابلے میں نیشنل پارٹی کو انتخابی مہم کے دوران آزادی پسند بلوچ مسلح تنظیموں کی طرف سے غیرمعمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جماعت کے سربراہ اور سابق سینٹر ڈاکٹر عبدالمالک کے انتخابی مہم پر دو مرتبہ حملے ہوئے جن میں وہ بال بال بچ گئے۔ ان تمام حالات کے باوجود نیشنل پارٹی نے میدان نہیں چھوڑا اور نہ ہی اپنی سیاست سے دستبردار ہوگئی۔خود ڈاکٹر مالک بلوچ بھی صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوگئے ہیں۔ 
پشتون علاقوں میں ترقی پسند ، سکیولر پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا انتخاب ایک انتہائی خوش آئند امرہے کیوں کہ اگر پشتونخواہ بلوچ قوم پرستوں کی طرح میدان کچھ اور عرصہ کے لئے چھوڑ دیتی تو ان کے علاقے طالبا ن اور ان کی حامی جمعیت علمائے اسلام کے رحم و کرم پر ہوتے۔ اگلے سال افغانستان کی جنگ کےخاتمے کے تناظر میں یہ انتخابی کامیابی بہت ہی اہم ہے کیوں کہ کوئی یہ بات مانے یا نہیں لیکن کوئٹہ شہر طالبان کی اعلیٰ قیادت کا مرکز ہے اور اگلے سال امریکی افواج کے انخلاتک کوئٹہ شہر میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اہم ملاقاتیں اور فیصلے ہوتے رئیں گے۔ اگر پاکستان کا یہ موقف ہے کہ جب تک افغانستان کے حوالے سے وہ کسی فیصلے میں شریک نہ ہو تب تک ایسا کوئی فیصلہ سود مند ثابت نہیں ہوگا تو اسی طرح یہ بات بھی اہم ہے کہ جب تک پشتون قوم پرستوں کو افغانستان میں پاکستانی پالیسی اور عزائم کے بارے میں پتہ نہیں چلے گا تب تک پاکستان کی افغان پالیسی پشتون قوم کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پشتون خواہ بلوچستان حکومت  یا اپوزیشن میں جاکر افغانستان اور طالبان کے حوالے سے کیا موقف اختیار کرتی ہے۔کیا پشتونخواہ میپ صوبہ خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے حشر سے سبق سیکھے گی اور طالبا ن پر اپنا موقف نرم کرے گی یا سخت موقف اپنا کر خود کو دوسری اے این پی بنالے گی؟
پشتونخواہ میپ اور نیشنل پارٹی ماضی میں کئی پلیٹ فارم پر اکھٹی رہی ہیں اوردنوں میں ایک بات قدرے مشترک ہے کہ وہ ترقی پسند سیکولر سیاست پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کے اقتدار میں آنے سے شاید مذہبی انتہاپسندوں کی کارروائیوں میں کمی نہیں آئے ( کیوں کہ ان کی سرپرستی راولپنڈی اور جنوبی پنجاب سے ہوتی ہے) لیکن اس بات کا اطمینان تو ضرور ہوگاکہ بلوچستان مکمل طور پر مذہبی قوتوں کے قبضے میں نہیں ہے۔ 
بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی مینگل ) کی کارکردگی خلافِ توقع مایوس کن رہی ہے۔ خود بی این پی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل  اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست پر  تو کامیاب ہوگئے ہیں لیکن مجوعی طور پر انھوں نے انتخابی عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہےاور دیگر نشستوں پر دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔ مینگل کا کہنا ہے کہ کئی نشستوں پر جہاں ان کی جماعت کے امیدوار جیت رہے تھے وہاں پر نتائج کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے تا کہ نتائج کو حکومت کے حامیوں کے حق میں تبدیل کیا جائے۔ انھوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازعہ نشستوں پر دوبارہ انتخاب کرایا جائے ۔ بصورت دیگر وہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی رٹ دائر کریں گے۔ 
ایسا نہیں لگتا کہ بی این پی کو اپنے موقف پر زیادہ پزیرائی ملے گی کیوں کہ ان کے ہم خیال پشتونخواہ اور نیشنل پارٹی اپنی کارکردگی سے قدرے مطمین نظر آتی ہیں اور وہ نہیں چائیں گی کہ انتخابات کی ساکھ پر کوئی انگلی اٹھے جس سے خود ان کی کامیابی کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھا جائے۔ جب کہ بلوچوں کی بڑی تعداد نے سرے ہی سے بی این پی کے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔
آزادی پسند قوتیں سردار مینگل سے ہمدردی نہیں کرتے اور کچھ لوگوں  کا کہنا ہے کہ بی این پی اپنی انتخابی شکست کو ہضم کرنے پر تیار نہیں ہے اور یوں اپنی ناکامی کے ردعمل میں ایک بار پھر بلوچ مظلومیت کا کارڑ استعمال کر رہی ہے۔ لیکن لوگ کب تک مینگل کا اس طرح اعتبار کریں گے۔ انھیں تو پہلے بھی کہا گیا تھا کہ پاکستانی ادارے ایسے ہی ہیں اور آپ کو پتہ ہونا چائیے کہ اقتدار کا سرچشمہ فوج ہے نا کہ پارلیمان لیکن آپ  نے تو کسی اور بلوچ رہنما کے مشورے کی شنوائی نہیں کی۔ جب بی این پی انتخابات میں جارہی تھی تو ان کے بہت سارے رہنما سمجھ رہے تھے کہ آزادی پسند رہنما دراصل بی این پی کی شہرت پر جلتے ہیں اور ان سے بی این پی کی مقبولیت برداشت نہیں کی جاتی ۔ یہ محض ان کی خوش فہمی تھی جس کا اب وہ خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ بی این پی اب نا سرمچاورں کے کیمپ میں ہے نا حکومتی کیمپ میں۔بی این پی اب صرف اپنی ہی کیمپ میں محدود ہوکر رہ گئی ہے جس پر ہمیں افسوس ضرور ہے لیکن اس کی ذمہ داری خود سردار مینگل کے عاقبت نا اندیش مشیروں پر عائد ہوتی ہے۔  
صوبائی حکومت کی تشکیل میں پاکستان مسلم لیگ نواز کا بڑا اہم کردار ہوگاکیوں کہ وفاق اور پنجاب میں نون لیگ  کی حکومت بنے گی ۔اگرچہ نواز شریف نے انتخابات سے پہلے ہی اختر مینگل سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن اب  انتخابی نتائج کی آمد کے بعد مینگل کے وزیر اعلیٰ بننے کی امیدیں  کم ہوگئی ہیں  کیوں کہ بی این پی کے پاس صوبائی اسمبلی میں بہت کم نشستیں ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ میں شامل چند پشتون رہنماوں کی خواہش ہوگی کہ اس بار پشتون وزیراعلیٰ منتخب کیا جائے لیکن اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بہت سارے بلوچوں کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ بلوچستان کی سیاست کچھ ایسی ہے کہ لوگوں کا تعلق کسی بھی جماعت اور نظریے سے کیوں نا وہ اپنی لسانی اور قومی وابستگوں کو یکدم بالائے تاک نہیں رکیں گے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بلوچوں کی خواہش ہوگی کہ کوئی بلوچ ہی وزیر اعلیٰ بنے خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو اور پشتونوں کی بھی یعنی خواہش ہوگی۔ 
اس کا یہ مطلب نہیں کہ سردار اختر مینگل بلوچستان کی سیاست سے باہر ہوگئے ہیں۔انھوں نے انتخابی دھاندلی پر آواز بلند کرکے یہ اشاردہ دیا ہے کہ وہ صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف مضبوط رہنما بن کر ابھر سکتے ہیں۔ وہ اپنی جماعت کے ان کئی رہنماوں کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتے جنھیں مبینہ طور پر دھاندلی کی وجہ سے مختلف نشستوں پر شکست ہوئی ہے۔ ان حالات میں میاں نواز شریف اور اختر مینگل کے راستے الگ ہوتے نظر آتے ہیں۔ اگر نواز شریف اختر مینگل کے موقف کی تائید کرتے ہیں کہ بلوچستان میں واقعی دھاندلی ہوئی تھی توپھر آنے والی پوری صوبائی حکومت کی ساکھ مجروح ہوگی اور اس کا نواز شریف کو کوئی فائد ہ نہیں پہنچے گا۔ 

Thursday, April 4, 2013

حکومت اور صحافی

تحریر: ملک سراج اکبر 


پاکستان کی دو سب سے بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نے متفقہ طور پر ممتاز صحافی نجم سیٹھی کو صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ منتخب کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ملک کی دیگر جماعتوں نے بھی اس فیصلے کو سراہا کیوں کہ تمام سیاسی فریقین کا کہنا ہے کہ انھیں نجم سیٹھی کی غیر جانب داری اور ایمان داری پر کوئی شک نہیں ہے۔ہمارے ایک صحافی دوست نے طنزیہ طور پر کہا کہ اگر نگران وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر بھی صدر آصف علی زرداری کے ذہن میں کوئی ٹی وی اینکر آجاتے تو شاید بات الیکشن کمیشن آف پاکستان تک نہیں پہنچتی۔ جب دونوں بڑی پارٹیاں نگران وزیراعظم کے معاملے پراتفاق رائے قائم نہ کرسکے تو عوام اور میڈیا نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر سیاسی جماعتیں اس اہم مسئلے پر مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی ہیں تو وہ ملک میں جمہوری نظام کیسے چلاسکیں گی۔باالفاظِ دیگرجمہوریت اور سیاست دانوں کے ناقدین کو یہ موقع ملا کہ سیاست دان ملکی امور چلانے کے اہل نہیں ہیں ۔ 
مجھے نجم سیٹھی کے ساتھ پانچ سال تک کام کرنے کا موقع ملا۔ جب میں بلوچستان میں ڈیلی ٹائمز اور اردو روزنامہ آج کل کا بیورو چیف تھا تو وہ لاہورسے نکلنے والے دنوں اخبارات کے مدیراعلیٰ ( یا ایڈیٹر انچیف) تھے۔اس کے علاوہ میں ان کی زیرادارت نکلنے والے ہفت روزہ انگریزی جرید ہ فرائیڈے ٹائمز کے لئے بھی بلوچستان سے تحاریر لکھتا تھا۔ نجم سیٹھی کا شمار بلاشبہ پاکستان کے بہترین صحافیوں میں سے ہوتا ہے اور بیرون ملک جن چند پاکستانی صحافیوں کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو ان میں نجم سیٹھی بھی شامل ہیں۔چوں کہ سیٹھی صاحب کا تعلق انگریزی پریس سے رہا ہے تووہ اپنے پیشہ وارانہ زندگی کے بیشتر سالوں تک عام پاکستانیوں کی نظر سے اوجھل تھے لیکن جب انھوں نےجیو ٹی وی پر اپنااردو پروگرام ’’آپس کی بات‘‘ شروع کی توزیادہ سے زیادہ لوگ انھیں جاننے لگے۔ وہ اپنے بے لاگ تبصروں اور بیشتر اوقات درست ثابت ہونے والی پیشن گوئیوں کی وجہ سے بھی بہت  جلدہی اپنے ناظرین میں مقبول ہوگئے۔ ان کی پیشن گوئیوں کے سچ ثابت ہونے کی وجہ سے میں نے انھیں امریکن اخبار ہفنگٹن پوسٹ میں اپنی ایک تحریر میں پاکستان کا والٹر کرانکیٹ قراردیا تھا۔ واٹر کرانکیٹ امریکا کے ایک انتہائی قابل احترام صحافی تھے جنھیں ’’ امریکا کا سب سے قابل اعتبارشخص‘‘ بھی کہا جا تا تھا۔ اگرچہ نجم سیٹھی نے والٹر کرانکیٹ کی طرح فیلڈ رپورٹنگ نہیں کی لیکن ان کی پیشن گوئیوں کے بنیاد پر انھیں اگر پاکستان کا والٹر کرانکیٹ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کیوں کہ ان  کے بیشتر تجزے سچ ثابت ہوتے ہیں۔ 
نجم سیٹھی ایک لبرل سوچ رکھنے والی شخصیت ہیں اور ان کے پروگرام کا انداز ملک کے دیگر اینکر پرسن سے بالکل مختلف ہے۔ وہ روایتی سازشی افکار پر توجہ نہیں دیتے اور نہ ہی پاکستان میں ہونے والے ہر مسئلے کا ذمہ دار امریکا، بھارت اور اسرائیل کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کی اسی روشن خیالی کی وجہ سے پاکستان کا مذہبی طبقہ جس کا قومی میڈیا پر بھی غلبہ ہے ان کے خیالات سے خوش نہیں رہا ہے۔ 
انیس سو ننانوے میں انھیں آئی ایس آئی نے اغوا کیا کیوں کہ انھوں نے مبینہ طور پر ہندوستان میں ایک پاکستان مخالف تقریر کی تھی لیکن بعد میں رہا کئے گئے۔ حالیہ دنوں میں بھی انھیں جان سے ماردینے کی دھمکیاں مل رہی تھیں جن کے پیش نطر وہ اور ان کی اہلیہ محترمہ جگنو محسن امریکا تشریف لائے۔ یہاں وہ ایک عرصہ تک نیو امریکا فاونڈیشن نامی معتبر تھنک ٹھینک سے منسلک رہے۔پاکستان واپس لوٹنے سے قبل انھوں نے خود کو ملنے والی دھمکیوں کا اعلان میڈیا میں کیا جس کے بعد حکومت نے انھیں سیکورٹی فراہم کی۔ اس کے باوجود وہ اپنا ٹی وی شو اپنے گھر ہی میں قائم ایک چھوٹے اسٹوڈیومیں ریکارڈ کرتے رہے ۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی صحافی کو سرکاری نوکری کرنی چائیے یا سیاسی عہدہ سنھبالنا چائیے؟ ہمارے خیال میں نجم سیٹھی نے سرکاری عہدہ قبول کرکے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے جس سے پاکستانی صحافت میں ایک منفی رجحان کو تقویت ملے گیکیوں کہ صحافیوں میں بھی ایک ایسامراعات یافتہ طبقہ رہا ہے جس کو حکومت ہر طرح سے نوازتی رہی ہے۔ پہلے ہی سےکئی صحافی خفیہ اداروں کے پےرول پر ہیں،باقیوں کو حکومت پلاٹوں سے نوازتی ہے اور کچھ اور کو تو غیر ملکی دورے حتیٰ کہ حج اور عمرے بھی کرائے جاتے ہیں تاکہ وہ حکومت  کے حق میں رپورٹنگ کریں۔نجم سیٹھی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ایسے لوگوں کی خواہشتات و توقعات میں مزید اضافہ ہوگا کہ کیوں کہ وہ بھی حکومت کی قربت حاصل کرکے کسی  نا کسی طرح مستقبل کے کسی اور نگران حکومت میں بڑے عہدے پر فائز ہونے کے خواہش مند ہوں گے۔حکومت اور سیاسی پارٹیوں کی یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ سرکردہ صحافی ان کے ساتھ ملیں کیوں کہ اس سے میڈیا میں ان کا امیج بہتر بنانےمیں مدد مل سکے گی لیکن صحافیوں کے لئے لازمی ہے کہ وہ کسی بھی سرکاری لالچ اور خوش آمد میں ناآئیں۔ 

Sunday, March 24, 2013

نگران حکومت کی نگرانی کون کرے گا؟

تحریر: ملک سراج اکبر

بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نوا ب محمد اسلم رئیسانی نے اس سال تیرہ جنوری کو اپنی حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کے نفاذ پر قدرےتحمل کا مظاہر ہ کیا اور جس وقت ان کی کارکردگی پر شدید تنقید کی جارہی تھی تو انھوں نے اس بات میں اپنی عافیت جانی کہ اس عرصے میں وہ ملک سے باہر ہی رئیں۔ گورنر راج کے ساتھ ہی یہ تاثر دیا گیا کہ ان کے اتحادیوں نے انھیں استعفیٰ دینے پر آمادہ کیا ہے  کیوں کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود بلوچستان اسمبلی کے اجلاس باقاعدگی سے ہوتے رہے اور جمعیت علمائے اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نے گورنر راج کی شدید مذمت بھی کی۔ اس وقت یوں لگ رہا تھا کہ اتحادی جماعتیں نواب رئیسانی کو استعفیٰ دینے پر راضی کریں گی اور ایک نئے قائد ایوان کا انتخاب کیا جائے گا لیکن ایسانہیں ہوا۔ یوں وقت گزرتا گیا اور جہاں ایک طرف ہزارہ اور شعیہ برادری کا غم و غصہ نسبتا ً کم تر ہوتا گیا تو وہاں دوسری طرف گورنر راج کی دومہینے کی آئینی مدت بھی پوری ہوگئی۔ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نواب رئیسانی نہ صرف واپس وطن لوٹے بلکہ انھوں نے استعفیٰ دینے سے بھی یکسر انکار کردیا اور یوں ان کی حکومت خود بخود بحال ہوگئی۔ بلوچستان میں جمہوریت کے تسلسل کی حمایت کرنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم نواب رئیسانی کی حکومت کی نااہلی اور بدعنوانی کی پردہ پوشی کریں ۔ رئیسانی حکومت بلاشبہ بلوچستان کی تاریخ کی نا اہل ترین حکومت رہی ہے جس کی وجہ سے صوبےکے لوگوں کو اذیت ناک پانچ سال گزارنے پڑے۔ 
 نواب رئیسانی  کو کوئی پسند کرے یا نہ لیکن انھوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کرکے بڑی عقل مندی سے اپنے آپ کو تاریخ کے اوراق میں بد نما ہونے سے بچا لیا۔ اگر ان کی حکومت بحال نہ ہوتی تو وہ تاریخ میں بلوچستان کے اس وزیراعلیٰ کی حیثیت میں یاد کئے جاتے جن کو وفاقی حکومت نے بڑا بے آبرو کرکے نکال دیا۔ ایساتو سردار عطااللہ مینگل کی حکومت کے ساتھ بھی ستر کی دہائی میں ہوا تھا لیکن مینگل صاحب کی حکومت پھر کبھی بحال نہیں ہوئی۔ نواب رئیسانی پر یہ بات اس لئے بھی زیادہ گراں گزرتی کیوں کہ وہ بلوچستان کی تاریخ کے پہلے وزیراعلیٰ تھے جو بلامقابلہ منتخب ہوئے۔ انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پانچ سال تک ان کے خلاف کوئی شخص بلوچستان اسمبلی میں کھڑا نہیں ہوا۔ 
اس معاملے میں سردار یار محمد رند کا تذکرہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ اسمبلی کے واحد رکن تھے جنھوں نے نواب رئیسانی کی حکومت کی حمایت نہیں کی۔ یار محمد رند نے تو اپنے رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد پانچ سالوں میں اسمبلی میں قدم نہیں رکھا تو یہ کہنا کہ وہ حزب اختلاف کے واحد رکن تھے کسی اعتبار سے درست نہیں لگتا۔ ان پانچ سالوں میں ان کا اسمبلی کے اندر کوئی وجود نہیں تھا۔اس دوران ان کی سیاست صرف اخباری بیانات تک محدود رہی۔  
 اگر رئیسانی کی جگہ پی پی پی کا کوئی اور رہنما وزیراعلیٰ منتخب ہوتے تو سرداریار محمد یقیناً ان کی حمایت کرتے اور خود صوبائی حکومت میں کسی اہم عہدے پر فائز ہوتے۔ رئیسانی کے ساتھ ان کے قبائلی اختلافات ہیں کیوں کہ نواب رئیسانی یار محمد رند کو اپنے والد اور بلوچستان کے سابق گورنر غوث بخش رئیسانی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ بصورت دیگر یار محمد رند سیاسی و نظریاتی حوالے سے اتنے پختہ نہیں ہیں کہ وہ اقتدار کو ٹھوکر لگائیں کیوں کہ خود ان کا تعلق کسی زمانے میں نواب اکبر بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی سے ہوا کرتا تھا لیکن اقتدار  کے نشے میں وہ جنر ل مشرف کے اتنے بڑے حامی بن گئے کہ جب نواب بگٹی ہلاک کئے گئے تو اس فیصلے کے خلاف انھوں نے احتجاج تک نہیں کیا اور جنرل مشرف کی حمایت یافتہ وفاقی حکومت میں امور کشمیر وشمالی علاقہ جات کے وزیر رہے ۔ 
جمہوریت کے ساتھ جس قدر مذاق نواب رئیسانی کے دور حکومت میں کیا گیا اس کی شاید کہیں اور نظیر ملے لیکن یہ بات قابل دید ہے کہ کس طرح رئیسانی اوران کے ٹولے نے ایک منظم طریقے سے کرپشن کی اور اپنے تمام کالے کرتوں کو جمہوریت کےچادر تلے چھپادیا۔ یہی اس ٹولے کا سب سے بڑا کارنامہ رہا ہے کیوں کہ ان سب کے سیاسی و معاشی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب بلوچستان میں صوبائی حکومت تشکیل دینے کی باری آئی تو نواب رئیسانی اور اسلم بھوتانی بالترتیب بلامقابلہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر منتخب ہوئے۔جمعیت علمائے اسلام کو خوش رکھنے کی خاطر سینئر وزیر کے ساتھ ساتھ دیگر اہم اور ’’ منافع بخش‘‘ وزارتیں دی گئی اور بی این پی عوامی کو بھی اتنا نواز کہ ان کے ہر رکن اسمبلی کو (سید احسان شاہ (وزیر صنعت وحرفت)، اصغر رند (وزیر سماجی بہبود)، اسداللہ بلوچ (وزیر زراعت)، غلام جان بلوچ (وزیر ماحولیات) ، ظفر اللہ زہری (وزیر داخلہ)، اور فوزیہ مری( مشیر وزیراعلیٰ اور بعد میں ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی)بنا یا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ بلوچستان میں جمہوریت بڑی خوش اسلوبی سے رواں دواں ہے۔ 
اسی طرح جب آئین کے بیسویں ترمیم کے تحت نگران وزیراعلیٰ کے لئے قائد حزب اقتدار اور قائد حزب اختلاف کے باہمی مشاورت کی ضرورت پڑی تو ملاوں نے حلوہ کھانا چھوڑ دیا اور حزب اختلاف کی نشستوں پر جاکر بیٹھ گئے۔ نیز دونوں فریقین کے مابین بظاہر افہام و تفہیم سے جس نگران وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا گیا ہے وہ دراصل ان ہی ہم خیال لوگوں  کے مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا اور اس کو جمہوری تقاضو ں سے ہم آہنگ نہیں قرار دیا جاسکتا کیوں کہ جو لوگ پانچ سال تک حکومت کا حصہ رہے ہوں وہ ایک دن کے لئے اپوزیشن  میں بیٹھنے سے حقیقی اپوزیشن نہیں بن جاتےاور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ نواب غوث بخش باروزئی رئیسانی حکومت ہی کےمن پسند ہیں ۔ان کے انتخاب میں گورنر نواب ذولفقار علی مگسی کا بڑا اہم کردار ہے اور انھوں نے نگران وزیراعلیٰ کی تلاش فروری کے آخر اور مارچ کےآغاز میں شروع کیا تھا۔ اس سلسلے میں پچیس فروری کو وہ سابق وزیرداخلہ میر شعیب نوشیروانی کے والدمیر کریم نوشیروانی، تین مارچ کو غوث بخش باروزئی اور آٹھ مارچ کو پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کےسربراہ محمود خان اچکزئی کے بھائی ڈاکٹر حامد اچکزئی سے گورنر ہاوس کوئٹہ میں ملے اور یوں آخرکار غوث بخش باروزئی کو نگران وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا۔ 
بلوچستان میں پچھلے ایک ہفتے میں جمہوری اقتدار جس شرمناک طریقے سے منتقل ہوتے ہوئے ہم نے دیکھی ہےوہ بہت ہی مایوس کن ہے۔ ہم نے دیکھا کہ ایک نواب ( اسلم رئیسانی ) کو جب ہٹا کر ایک اور نواب (ذولفقار علی مگسی ) کو اقتدار دیا گیااورپھر ایک نواب کے بھائی ( طارق مگسی ) کے مشورے سے اقتدار ایک اور نواب (غوث بخش باروزئی ) کو اقتدار سونپا گیا ۔ یہ ایک شرمنا ک عمل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں اقتدار صرف اشرفیہ اور قبائلی رہنماوں کے پاس رہتی ہے اور عوام کی کوئی حثیت نہیں ہے۔ بلوچستان میں آج بھی مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ( مثلاً علی احمد کرد وغیرہ) یہ خواب نہیں دیکھ سکتے کہ انھیں کسی اہم عہدے پر فائز کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہمارے صوبے کے وہ سردار اور نواب ہیں جن پر اسلام آباد کو فخر ہے حالاں کہ یہ چند افراد جن کےارد گرد اقتدار کی مورتی گھومتی رہتی ہے صوبے کی پس ماندگی کے حقیقی ذمہ دار ہیں۔ بلوچستان میں ان لوگوں کی خلاف جلسے جلوس نہیں ہوتے ۔ کبھی ان سے احتساب نہیں کیا جاتا کیوں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی حکمرانی تو ہمارے نصیب میں لکھی گئی تھی اور ہم اپنا مقدر کبھی بدل بھی نہیں سکتے۔ 
نگران وزیراعلیٰ نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ ان کے پاس بلوچستان میں صاف اور شفاف انتخابات کرانے اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے ایک روڑ میپ ہے لیکن بلوچستان کا اصل مسئلہ صاف اور شفاف انتخابات نہیں ہے۔ اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہونا چائیے کہ پچھلے پانچ سالوں میں نواب رئیسانی اور ان کے ساتھیوں نے بلوچستان کے خزانے کو جس بے دردی سے لوٹا اس کا احتساب ہو نا چائیے۔ بلوچستان کو آغاز حقوق بلوچستان پیکج اور  اٹھارویں ترمیم کے بعد جتنے پیسے ملے وہ رقم کہاں خرچ ہوئی اورکن کن لوگوں نے اپنے جیبوں میں وہ پیسہ ڈالااس کا احتساب لازمی ہے۔ بنیادی طور پر نواب باروزئی جیسے کم اثرو رسوخ رکھنے والے قبائلی و سیاسی شخص کو اس لئے بھی متفقہ طور پر وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا کہ وہ نواب رئیسانی اور ان کے ساتھیوں پر رعب و دبدبہ نہ ڈال سکیں۔ جب تک نگران وزیراعلیٰ سابق حکومت کو احتساب کے کٹہرے میں نہیں لاتے تب تک وہ بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ وزیر اعلیٰ باروزئی جان بوجھ کر احتساب کے  جھنجٹ اور درد سرد میں نہیں پڑیں گے۔ اور ضرورت اس امر کی ہے کہ نگران حکومت کی بھی نگرانی کی جائے کہ یہ کس کے مفادات کو تحفظ دے رہی ہے۔