Showing posts with label Balochistan elections 2013. Show all posts
Showing posts with label Balochistan elections 2013. Show all posts

Sunday, May 12, 2013

بلوچستان: بعد از انتخاب


تحریر: ملک سراج اکبر


کافی قیاس آرائیوں کے بعد ملک بھر کی طرح گیارہ مئی کو بلوچستان میں بھی عام انتخابات مشکل حالات میں سہی لیکن منعقد ہوہی گئے۔ صوبہ بھر میں ووٹر ٹرن آوٹ بہت ہی کم رہاجس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ضلع آواران میں کامیاب ہونے والے امیدوار قدوس بزنجو نے صرف چھ سو چالیس ووٹ حاصل کئے۔بلوچ نیشنل فرنٹ نے انتخابات سے سے پہلے اور انتخاب کے دن ایک انتہائی کامیاب شٹرڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کیا جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے اور ووٹ دینے  باہر نہیں نکلے۔لیکن تمام نا مساعد حالات میں بلوچستان میں ایسے عام انتخابات منعقد کرنا جن میں بلوچ اور پشتون قوم پرستوں نے بھی حصہ لیا حکومتی نقطہ نظر سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ نصیرآباد میں ہونے والے ایک بم دھماکے علاوہ جس میں سولہ افراد ہلاک ہوئے  باقی ماندہ بلوچستان میں انتخابات پرامن رہے اور جس طرح کے بڑے حملوں کا خدشہ تھا وہ پیش نہیں آئے۔ چھوٹے موٹے واقعات اور دھاندلی کے الزامات تو ہر انتخاب میں لگتے رہتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ہی لوگ فراموش کردیتے ہیں۔ 
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ گیارہ مئی بلوچ علیحدگی پسند اور سرکار دنوں کے لئے بیک وقت فتح اور شکست کا دن تھا ۔ اب اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ کو ن سکے کو کس رخ سے دیکھتا ہے اور وہ انتخابی نتائج کی کس طرح تشریح کرتے ہیں۔ 
ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں ایک بار پھر کوئی ایک جماعت واضح اکثریت کے ساتھ کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔بلوچستان انتخابی حوالے سےملک کا سب سےمنقسم صوبہ ہے جہاں بلوچ قوم پرستی کا دعویٰ دار ہونے کے باوجود بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی ایک ساتھ مل بیٹھ کر  کسی بھی مسئلے پر اکٹھے کام نہیں کرسکتیں ۔اسی طرح جمعیت علمائے اسلام بھی دو دھڑوں (فضل الرحمن اور نظریاتی) میں تقسیم ہے۔ پشتونوں کی ترجمانی  پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کرتی ہیں جب کہ وفاق پر یقین رکھنے والی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ( نواز اور قائد اعظم ) دنوں بڑی حدتک اپنا وجود رکھتی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی تا حال خود کو بلوچستان کی سیاست میں تاحال منوا نہیں سکی ہیں اور ان کی صوبائی پارلیمان میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ 
حتمی نتائج تاحال برآمد نہیں ہوئے ہیں ۔ ابھی تک جو غیر حتمی نتائج سامنے آئے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صوبے کی سیاست میں قدرے تبدیلی کی امید کی جاسکتی ہے۔اس ضمن میں سب سے خوش گوار تبدیلی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کی طرف سے دیکھنے میں ملی ہے جنھوں نے  ایک غیر حتمی اندازے کے مطابق  مشترکہ طور پر پینسٹھ نشستوں پر مشتمل صوبائی اسمبلی کی اٹھارہ نشستیں حاصل کی ہیں۔ دنوں جماعتوں نے سابقہ انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جب کہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے مقابلے میں نیشنل پارٹی کو انتخابی مہم کے دوران آزادی پسند بلوچ مسلح تنظیموں کی طرف سے غیرمعمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جماعت کے سربراہ اور سابق سینٹر ڈاکٹر عبدالمالک کے انتخابی مہم پر دو مرتبہ حملے ہوئے جن میں وہ بال بال بچ گئے۔ ان تمام حالات کے باوجود نیشنل پارٹی نے میدان نہیں چھوڑا اور نہ ہی اپنی سیاست سے دستبردار ہوگئی۔خود ڈاکٹر مالک بلوچ بھی صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوگئے ہیں۔ 
پشتون علاقوں میں ترقی پسند ، سکیولر پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کا انتخاب ایک انتہائی خوش آئند امرہے کیوں کہ اگر پشتونخواہ بلوچ قوم پرستوں کی طرح میدان کچھ اور عرصہ کے لئے چھوڑ دیتی تو ان کے علاقے طالبا ن اور ان کی حامی جمعیت علمائے اسلام کے رحم و کرم پر ہوتے۔ اگلے سال افغانستان کی جنگ کےخاتمے کے تناظر میں یہ انتخابی کامیابی بہت ہی اہم ہے کیوں کہ کوئی یہ بات مانے یا نہیں لیکن کوئٹہ شہر طالبان کی اعلیٰ قیادت کا مرکز ہے اور اگلے سال امریکی افواج کے انخلاتک کوئٹہ شہر میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اہم ملاقاتیں اور فیصلے ہوتے رئیں گے۔ اگر پاکستان کا یہ موقف ہے کہ جب تک افغانستان کے حوالے سے وہ کسی فیصلے میں شریک نہ ہو تب تک ایسا کوئی فیصلہ سود مند ثابت نہیں ہوگا تو اسی طرح یہ بات بھی اہم ہے کہ جب تک پشتون قوم پرستوں کو افغانستان میں پاکستانی پالیسی اور عزائم کے بارے میں پتہ نہیں چلے گا تب تک پاکستان کی افغان پالیسی پشتون قوم کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پشتون خواہ بلوچستان حکومت  یا اپوزیشن میں جاکر افغانستان اور طالبان کے حوالے سے کیا موقف اختیار کرتی ہے۔کیا پشتونخواہ میپ صوبہ خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے حشر سے سبق سیکھے گی اور طالبا ن پر اپنا موقف نرم کرے گی یا سخت موقف اپنا کر خود کو دوسری اے این پی بنالے گی؟
پشتونخواہ میپ اور نیشنل پارٹی ماضی میں کئی پلیٹ فارم پر اکھٹی رہی ہیں اوردنوں میں ایک بات قدرے مشترک ہے کہ وہ ترقی پسند سیکولر سیاست پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کے اقتدار میں آنے سے شاید مذہبی انتہاپسندوں کی کارروائیوں میں کمی نہیں آئے ( کیوں کہ ان کی سرپرستی راولپنڈی اور جنوبی پنجاب سے ہوتی ہے) لیکن اس بات کا اطمینان تو ضرور ہوگاکہ بلوچستان مکمل طور پر مذہبی قوتوں کے قبضے میں نہیں ہے۔ 
بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی مینگل ) کی کارکردگی خلافِ توقع مایوس کن رہی ہے۔ خود بی این پی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل  اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست پر  تو کامیاب ہوگئے ہیں لیکن مجوعی طور پر انھوں نے انتخابی عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہےاور دیگر نشستوں پر دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔ مینگل کا کہنا ہے کہ کئی نشستوں پر جہاں ان کی جماعت کے امیدوار جیت رہے تھے وہاں پر نتائج کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے تا کہ نتائج کو حکومت کے حامیوں کے حق میں تبدیل کیا جائے۔ انھوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازعہ نشستوں پر دوبارہ انتخاب کرایا جائے ۔ بصورت دیگر وہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی رٹ دائر کریں گے۔ 
ایسا نہیں لگتا کہ بی این پی کو اپنے موقف پر زیادہ پزیرائی ملے گی کیوں کہ ان کے ہم خیال پشتونخواہ اور نیشنل پارٹی اپنی کارکردگی سے قدرے مطمین نظر آتی ہیں اور وہ نہیں چائیں گی کہ انتخابات کی ساکھ پر کوئی انگلی اٹھے جس سے خود ان کی کامیابی کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھا جائے۔ جب کہ بلوچوں کی بڑی تعداد نے سرے ہی سے بی این پی کے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔
آزادی پسند قوتیں سردار مینگل سے ہمدردی نہیں کرتے اور کچھ لوگوں  کا کہنا ہے کہ بی این پی اپنی انتخابی شکست کو ہضم کرنے پر تیار نہیں ہے اور یوں اپنی ناکامی کے ردعمل میں ایک بار پھر بلوچ مظلومیت کا کارڑ استعمال کر رہی ہے۔ لیکن لوگ کب تک مینگل کا اس طرح اعتبار کریں گے۔ انھیں تو پہلے بھی کہا گیا تھا کہ پاکستانی ادارے ایسے ہی ہیں اور آپ کو پتہ ہونا چائیے کہ اقتدار کا سرچشمہ فوج ہے نا کہ پارلیمان لیکن آپ  نے تو کسی اور بلوچ رہنما کے مشورے کی شنوائی نہیں کی۔ جب بی این پی انتخابات میں جارہی تھی تو ان کے بہت سارے رہنما سمجھ رہے تھے کہ آزادی پسند رہنما دراصل بی این پی کی شہرت پر جلتے ہیں اور ان سے بی این پی کی مقبولیت برداشت نہیں کی جاتی ۔ یہ محض ان کی خوش فہمی تھی جس کا اب وہ خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ بی این پی اب نا سرمچاورں کے کیمپ میں ہے نا حکومتی کیمپ میں۔بی این پی اب صرف اپنی ہی کیمپ میں محدود ہوکر رہ گئی ہے جس پر ہمیں افسوس ضرور ہے لیکن اس کی ذمہ داری خود سردار مینگل کے عاقبت نا اندیش مشیروں پر عائد ہوتی ہے۔  
صوبائی حکومت کی تشکیل میں پاکستان مسلم لیگ نواز کا بڑا اہم کردار ہوگاکیوں کہ وفاق اور پنجاب میں نون لیگ  کی حکومت بنے گی ۔اگرچہ نواز شریف نے انتخابات سے پہلے ہی اختر مینگل سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن اب  انتخابی نتائج کی آمد کے بعد مینگل کے وزیر اعلیٰ بننے کی امیدیں  کم ہوگئی ہیں  کیوں کہ بی این پی کے پاس صوبائی اسمبلی میں بہت کم نشستیں ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ میں شامل چند پشتون رہنماوں کی خواہش ہوگی کہ اس بار پشتون وزیراعلیٰ منتخب کیا جائے لیکن اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بہت سارے بلوچوں کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ بلوچستان کی سیاست کچھ ایسی ہے کہ لوگوں کا تعلق کسی بھی جماعت اور نظریے سے کیوں نا وہ اپنی لسانی اور قومی وابستگوں کو یکدم بالائے تاک نہیں رکیں گے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بلوچوں کی خواہش ہوگی کہ کوئی بلوچ ہی وزیر اعلیٰ بنے خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو اور پشتونوں کی بھی یعنی خواہش ہوگی۔ 
اس کا یہ مطلب نہیں کہ سردار اختر مینگل بلوچستان کی سیاست سے باہر ہوگئے ہیں۔انھوں نے انتخابی دھاندلی پر آواز بلند کرکے یہ اشاردہ دیا ہے کہ وہ صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف مضبوط رہنما بن کر ابھر سکتے ہیں۔ وہ اپنی جماعت کے ان کئی رہنماوں کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتے جنھیں مبینہ طور پر دھاندلی کی وجہ سے مختلف نشستوں پر شکست ہوئی ہے۔ ان حالات میں میاں نواز شریف اور اختر مینگل کے راستے الگ ہوتے نظر آتے ہیں۔ اگر نواز شریف اختر مینگل کے موقف کی تائید کرتے ہیں کہ بلوچستان میں واقعی دھاندلی ہوئی تھی توپھر آنے والی پوری صوبائی حکومت کی ساکھ مجروح ہوگی اور اس کا نواز شریف کو کوئی فائد ہ نہیں پہنچے گا۔ 

Monday, April 29, 2013

بلوچستان: اساتذہ اور انتخابات

تحریر: ملک سراج اکبر 

گورنمنٹ ٹیچرزایسوسی ایشن (جی ٹی اے) نے عام انتخابات سے دو ہفتے قبل پولنگ ڈیوٹی دینے سے انکار کرکے حکومت بلوچستان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کوغیرمتوقع وسنگین مسائل سےدوچار کیا ہے کیوں کہ انتخابی عمل کا پورا دارو مدار پولنگ اسٹاف پر ہوتا ہےاور یہ ذمہ داری سرکاری اسکولوں کے اساتذہ نبھاتے آرہے ہیں۔ 
جی ٹی اے سمیت کسی بھی یونین کا مقصد اپنے اراکین کی فلاح و بہبود اور تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہےاور بلوچستان میں انتخابی عمل کو درپیش چیلنجزکے پیش نظر اساتذہ کےحقوق کی علم برداری تنظیم جی ٹی اے نے جو فیصلہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔اس فیصلے کےمطابق بلوچستان کے گیارہ اضلاع سےتعلق رکھنے والے اٹھارہ ہزار سے  زائد اساتذہ کو بتایا گیا ہےکہ اگر وہ اپنی مرضی سے الیکشن والے دن ڈیوٹی پر جانا چاہتے ہیں تو ان پر کوئی قدغن نہیں لگایا جائے گا لیکن اگر کوئی استاد چاہتاہے کہ اس روز ڈیوٹی نہ دے تب بھی جی ٹی اے ان پر کوئی زور نہیں دے گی۔ 
جی ٹی اے کے فیصلے کی حکومتی اورقوم پرست حلقے مختلف انداز میں تشریح کررہے ہیں ۔حکومت سمجھتی ہے کہ چند اساتذہ آزادی پسند بلوچ قوتوں کی حمایت کررہے ہیں اور سیکورٹی کا بہانا بنا کر وہ مزحمت کاروں کے بائیکاٹ کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں جب کہ قوم پرستوں کے حامی مکتبہ فکرکا خیال ہے کہ اساتذہ کے فیصلے سے بلوچ آزادی پسندوں کے موقف کو تقویت ملی ہے۔ اورتمام اساتذہ مزحمت کاروں کی سیاسی حکمت عملی کے سامنے سربسجود ہوگئے ہیں۔ ہمارے خیال میں دونوں کی رائے مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ 
اگرچہ جی ٹی اے کے تمام اراکین سرکاری ملازم ہیں اور تنخواہ حکومت سے لیتے ہیں لیکن وہ پالیسی اور یونین سازی کے معاملے میں آزاد ہیں۔ بلوچ علاقوں میںجو لوگ جی ٹی اے کے فیصلہ ساز عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ان میں سے بیشتر نے زمانہ طالب علمی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ( بی ایس او) کے پلیٹ فارم سے سیاست اور یونین سازی سیکھی۔ تاہم بلوچ علاقوں میں زیادہ تر اساتذہ کا تعلق بی این پی  مینگل یا عوامی، نیشنل پارٹی اور  جمعیت علمائے اسلام سے ہے۔ کئی ایسے اساتذہ بھی ہیں جن کی تعینانی سے لے کر ٹرانسفر اور پوسٹنگ تک سب  کچھ انہی پارلیمان پرست جماعتوں کی مرہونِ منت ہے ۔لیکن اس کے باوجود لگتا ہے کہ اس فیصلے میں کوئی سیاست شامل نہیں بلکہ جی ٹی اے نے یہ فیصلہ بڑی دیانت داری،نیک نیتی اورپیشہ وارانہ انداز میں کیا ہے۔ با الفاظِ دیگر بلوچستان کے حالات اس وقت کسی قسم کے انتخابی عمل کے لئے سازگار نہیں ہیں۔
حالیہ دنوں میں مختلف سیاسی رہنماوں کے قافلے، جلسوں اور گھروں پر ہونے والے حملوں کو دیکھ کر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اساتذہ نے ایک انتہائی مثبت فیصلہ کیا ہے۔ یقیناً حکومت ان کے اس فیصلے پر خوش نہیں ہوگی اور اگلے روز ہی یہ دھمکیاں دی جائیں گی کہ جو اساتذہ انتخابی ڈیوٹی نہیں دیں گے انھیں برطرف کیا جائے گا یا جیل میں ڈال جائے گا لیکن عملی طور پر اٹھارہ ہزار اساتذہ کو برطرف کرنا ممکن نہیں ہے۔ حکومت کو چائیے کہ اساتذہ کے فیصلے پر برہم ہونے کے بجائے اپنی کارکردگی کا جائزہ لے۔انتخابی عمل کو سیکورٹی فراہم کرنا نگران حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور بلوچستان میں حکومت کی ناکامی کا یہ حال ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ جناب غوث بخش باروزئی ایک مہینہ گزرنے کے باجود اپنی کابینہ تک تشکیل نہ دے سکے اور اب نہیں لگتا کہ وہ انتخابات تک کوئی کابینہ تشکیل دیں گے۔ یہ حکومت کی اپنی نااہلی ہے۔ بیشتر اساتذہ کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔ اگر بلوچستان میں انتہائی بااثر قبائلی و سیاسی شخصیات محفوظ نہیں ہیں تو اساتذہ کے تحفظ کی ذمہ داری کون لےگا؟ 
 جی ٹی اے کو چائیے کہ وہ تمام اساتذہ کے مفادات اورسالمیت کو مد نظر رکھ کر اپنے فیصلے پر بدستور قائم رہے ۔ دیکھنایہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت ، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور پاکستان فوج اس صورت حال میں اساتذہ کا کیا نیم البدل تلاش کرتے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاصل خان بزنجو نے اساتذہ سے اپیل کی ہےکہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں لیکن جب بزنجو صاحب کی اپنی جماعت کے سربراہ ڈاکٹر مالک کی رہائش گاہ پر حملے ہورہے ہیں اور وہ انھیں حکومت کی مدد سےتحفظ نہیں دلاپارہے تو وہ اساتذہ کو کیونکر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کا مشورہ دےرہے ہیں؟

Saturday, March 30, 2013

انتخابی بائیکاٹ کیوں بلوچ مفاد میں ہے؟

تحریر: ملک سراج اکبر 

شاید ہم نے یہ کالم لکھنے میں کافی دیر کردی۔ اب کون انتخابات کا بائیکاٹ کرےگا ؟ فیصلے تو ہوگئے ہیں۔ دو بلوچ قوم پرست جماعتیں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) اور نیشنل پارٹی (این پی) نے تو عام انتخابات میں حصہ لینے کا باضابطہ فیصلہ کرلیا ہے اور ان کے نمائندوں نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرنا بھی شروع کردیا ہے ۔ شایدبائیکاٹ کی بات اب محض تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔سردار اختر مینگل کی وطن واپسی اور انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے پر  لوگوں کو حیرت نہیں البتہ مایوسی ضرور ہوئی ہے۔ ایک بار پھر بی این پی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ ان کے قول اور فعل میں کھلا تضاد ہے۔ اگر آپ سردار اختر مینگل کے انٹرویوز کا جائزہ لیں تو وہ حکومت پاکستان کے رویے سے خوش ہیں اور نہ ہی امن و امان کے حوالے سے موجود ہ حالات سے مطمئین ہیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے انتخابات میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
خود اختر مینگل کے بھائی جاوید مینگل جو کہ آزاد بلوچستان کے حامی ہیں نے بی بی سی اردو سروس کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ ان کے بھائی ( اختر مینگل) نے کراچی میں ہونے والے بی این پی کے سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں انتخابی بائیکاٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔تاہم سردار مینگل کے فیصلے پر خود حکومت کو بڑی خوشی ہوئی۔ کیوں کہ آخر کارکوئی نا کوئی بلوچ قوم پرست سرکار کو ہاتھ لگا ہے جو ان کے انتخابی عمل کا حصہ بنے کو تیار ہوگیا ہے۔ بصورت دیگر جو اہم بلوچ رہنما ہیں وہ تو کسی بھی سرکاری پیشکش، پیکج پر راضی نہیں ہورہے۔  اور بلوچ قوم پرستوں کی شمولیت کے بغیر انتخابات کی کوئی حثیت نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چائیے کہ گورنر ، نگران وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کو بالکل غیر جانب دار رہناچائیے اور انتخابی موسم میں تو ان سے اور زیادہ توقعات وابستہ ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجودہ تینوں حضرات نےاپنے اپنے اخباری بیانات میں بلوچ قوم پرستوں کے اس فیصلے کو سراہا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔
 اختر مینگل نے اپنی جماعت کے فیصلے پر لبیک کہہ کر خود کو تنقید کا ہدف ضرور بنایا ہے لیکن ان پر نزلہ گرنا اب ایک قدرتی بات ہے کیوں کہ وہ ہی بی این پی کے سربراہ ہیں لیکن بی این پی کے فیصلوں پر اب ایسے لوگ اثر انداز ہونے لگے ہیں جو سردار مینگل کی ملک میں غیر موجودگی میں حکومتی حلقوں سے قریب رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی اپنی کوئی سیاسی ساکھ نہیں ہے لیکن مینگل اور بی این پی کے صدقے سے ان کی مقامی سیاست چمکتی ہے، ٹی وی پر انٹرویوز آتے ہیں اور سرکاری ٹھیکےبھی مل جاتے ہیں۔اختر مینگل کو ملک میں واپس آنے پر مجبور کرنے والے پارٹی کے یہ لوگ ان کی جان کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں اور ان کی سیاسی ساکھ جو کہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے کے بعد مجروح ہوئی تھی کو اور بگاڑنے کے پیچھے پڑے ہیں۔
 کل کو اگر اختر مینگل کو کچھ ہوجاتا ہے تو ان عناصر سے کچھ بھی نہیں جاتا کیوں کہ ان کے مفادات ذاتی ہیں نا کہ قومی۔ ایسے لوگ اگلے روز ہی کسی اور سیاسی پارٹی میں جاکر شمولیت کرلیں گے۔ ان لوگوں کو سیاسی ابن الوقت کہا جاتا ہے اور ایسے مفاد پرست عناصر آ پ کو ہر جماعت میں ملتے ہیں لیکن قوم پرست جماعتوں میں ایسے عناصر کی موجودگی زدیادہ خطرناک ہے کیوں کہ جب وہ اپنی جماعت یا اس کے رہنما کو تنہائی میں چھوڑدیتے ہیں تو اس کا نقصان مسلم لیگ ق یا پی پی پی کے کسی ایم پی اے یا ایم این اے کے چھوڑنے سے زیادہ ہوتا ہے کیوں کہ قوم پرست جماعتوں کی سیاست نظریاتی ہوتی ہے اور ان کو جس طرح کی سرکاری مخالفت و خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے دوسری جماعتوں کو واسطہ نہیں پڑتا۔
 اس طرح کی سیاسی بے وفائی کی ایک بڑی مثال نواب اکبر بگٹی کی جمہوری وطن پارٹی ہے جس میں نواب بگٹی کے سائے تلے آکر آغا شاہد بگٹی ( جمہوری وطن پارٹی کے سابق جنرل سیکرٹری )  اور امان اللہ کنرانی  ( سابق سیکرٹری اطلاعات اوربلوچستان کے موجودہ ایڈوکیٹ جنرل) جیسے غیر سیاسی لوگ بھی راتوں رات مشہور ہوگئیے اور ہر ٹی وی چینل پر نظر آنے لگے لیکن نواب بگٹی کی شہادت کے بعد ان لوگوں کا قوم پرستی اور بلوچ حقوق کے ساتھ کوئی رشتہ باقی نہیں رہا۔ 
اسی طرح بی این پی میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو بار بار سردار مینگل کو مشتعل کرتے رہے لیکن سردار صاحب یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خود ان کا ، ان کی جماعت اور ان کے فیملی کا بلوچستان کی سیاست میں کتنا اہم کردار ہے۔ ان کو بدستور دونوں طرف سے للکارا گیا۔ ایک طرف پاکستانی اسٹبلشمنٹ نے بار بار یہ عندیہ دیا کہ مینگل اور ان کی جماعت ملک دشمن ،غیر جمہوری، غیر لچکدار اور غیر مقبول ہیں تو دوسری طرف بی ایس او آزاد، بلوچ ری پبلکن پارٹی، بلوچ نیشنل فرنٹ اور بلوچ نیشنل موومنٹ جیسی جماعتوں  نے مینگل کی قوم پرستی اور وطن دوستی پر سوال اٹھانا شروع کیا۔ حالاں کہ یہ تمام جماعتیں ایسی  ہیں جن کا بلوچستان میں کوئی ووٹ بینک نہیں ہے بلکہ وہ  مسلح تنظیموں کا نام استعمال کرکے اپنی سیاست چمکارہی ہیںاور یوں  مشتعل مینگل صاحب دونوں فریقین کو غلط ثابت کرنے کے دوڑ میں وطن واپس چلے گئے اور بلا مشروط طور پر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔ 
جو لوگ الیکشن کے حق میں ہیں وہ بار بار یہ کہتے ہیں کہ الیکشن جمہوری عمل کا ایک اہم حصہ ہیں اور ان کا بائیکاٹ ایک غیر جمہوری عمل ہے۔ لیکن یہ درست نہیں ہے کیوں کہ بائیکاٹ اورواک آوٹ جیسے عمل خود جمہوریت کا حصہ ہیں اور ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ خود اقوام متحدہ کے نظام میں بھی یہ سہولیت موجود ہے کہ اگر کوئی ملک ایک متنازعہ مسئلے پر ووٹ نہیں دینا چاہتا تو وہ رائے دہی سے اجتناب کرتا ہے۔ اسی طرح انتخابات میں حصہ لینے یا نا لینے سے کوئی جمہوری یا غیر جمہوری نہیں بنتا کیوں کہ بلوچستان کا مسئلہ محض حکومت کی تشکیل  یا فنڈز کی فراہمی نہیں ہے۔
نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان کی سیاست یکسر بدل گئی ہے اور یہاں انتخابات کا مفہوم باقی ملک میں ہونے والے انتخابات سے بالکل مختلف ہے۔ بلوچستان میں انتخابات ایک پیمانہ بن گئے ہیں جس سے صوبے کے لوگوں کی ناراضگی کا ناپا جائےاورہر پانچ سال کے بعد یہ موقع آجاتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ اسلام آباد کو یہ بتائیں کہ وہ کس حد تک ان کی پالیسوں سے خوش ہیں اور کس حد تک ان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لہذہ اگر بلوچ قوم پرست انتخابات میں غیر مشروط طور پر حصہ لیتے ہیں تو اس کا  یہ مطلب لیا جائے گا کہ انھیں وفاق سے کوئی شکایت نہیں اور انھیں صوبے میں سب کچھ ٹھیک ٹھا ک نظر آتا ہے۔ 
 بلوچ جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں لیکن یہ صیح وقت نہیں ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں کیوں کہ انتخابات میں جانے سے پہلے لازمی ہے کہ بلوچوں پر پی پی پی کے دور حکومت  میں ہونے والے مظالم کا حساب لیا جائے اورسابقہ جمہوری حکومت نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور گوادر پورٹ کے حوالے سے جو اہم فیصلے کئے ہیں ان پر بلوچ خدشات کی شنوائی کی جائے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو انتخابات کا مطلب یہ ہے کہ بلوچ اپنے اوپر ہونے والے ہرظلم اور اپنے وسائل کے استحصال کو فراموش اور درگزر کرے گا اور انتخابات کا یہ مطلب لیا جائے کہ جو نئی حکومت قائم ہوگی اسے بھی ہر قسم کی آزادی ہوگی کہ وہ بلوچستان میں جو چاہے کرے۔
 سردار اختر مینگل جب پچھلے سال ستمبر میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے تو ہم نے ان کے فیصلے پر کڑی نقطہ چینی کی تھی جس پر وہ خود اور بی این پی کے دیگر ساتھی ناراض ہوگئے تھے لیکن ہم نے اس سلسلے میں جو پیشن گوئی کی تھی وہ بالکل سچ ثابت ہوئی کہ سردار صاحب کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگااور اس ناکامی کا اعتراف خود سردار صاحب کے اس خط میں کیا گیا ہے جو انھوں نے پاکستان واپس جانے سے پہلے سپریم کورٹ کو لکھا تھا جس میں انھوں نے یہ شکایت کی تھی کہ بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں ابھی بھی تواتر کے ساتھ مل رہی ہیں۔ 
چوں کہ بی این پی خود کو بلوچستان کی سب سے بڑی جماعت سمجھتی ہے تو لازمی ہے کہ وہ بلوچستان کو درپیش اہم سیاسی مسائل کو اٹھائے۔ بلوچستان کا مسئلہ صرف انسانی حقو ق کا نہیں ہے اور نا ہی بی این پی انسانی حقوق کی کوئی تنظیم ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کو لاپتہ افراد اور مسخ شدہ افراد پر سیاست کرنے کے بجائے دیگر اہم امور پر سیاست کرنی چائیےاور جو کام وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کا ہے وہ انھیں کرنا چائیے۔ بلوچ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری یہ ہونی چائیے کہ وہ قوم کو سیاسی شعوردیں ۔ اس وقت بلوچستان کے حوالے سے دنیا بھر میں جوسیمینار اور مظاہرے ہورہے ہیں وہ صرف اور صرف انسانی حقو ق کے موضوع پر ہورہے ہیں اور ان میں بہت کم ایسے ہیں جو بلوچستان کے سیاسی مسئلے پر توجہ دیتے ہیں۔ بلوچستان ایک سیاسی مسئلہ ہے۔
سردار مینگل نےاپنی جان اور سیاسی مستقبل کو داو پر رکھ کر اگر پاکستان جانے کا فیصلہ کرہی لیا ہے تو یہ ان کے لیئے ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کریں کہ بلوچستان میں عام انتخابات فی الحال ملتوی کئے جائیں تاکہ سابقہ دور حکومت میں جو لوگ بلوچوں کے قتل عام میں ملوث تھے پہلے نگران حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ اسی طرح انتخابات سے پہلے بلوچستان کے مفادات کو تحفظ دینے کے لئےآئینی و قانونی ضمانتیں دی جائے اور گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرنے کے فیصلے کو التوا میں رکھا جائے۔ اس سلسلے میں سردار مینگل اگر ایسا کوئی مطالبہ کرتے ہیں تو مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف سمیت الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری یقیناً ان کے مطالبے کو سنجیدگی سے لیں گے۔